Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / سرکاری ملازمین، اساتذہ، ورکرس اور پنشنرس کے دیرینہ مسائل کو فوری حل کرنے کا مطالبہ

سرکاری ملازمین، اساتذہ، ورکرس اور پنشنرس کے دیرینہ مسائل کو فوری حل کرنے کا مطالبہ

حیدرآباد ۔ 15 ستمبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے سرکاری ملازمین، اساتذہ، ورکرس اور پنشنرس کی مشترکہ جدوجہد کمیٹی نے ریاستی حکومت سے سرکاری ملازمین، اساتذہ، ورکرس اور پنشنرس کے دیرینہ حل طلب مسائل کی فی الفور یکسوئی کا پرزور مطالبہ کیا بصورت دیگر تلنگانہ میں منعقد شدنی مجوزہ اسمبلی انتخابات کے فرائض کی انجام دہی سے دوری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور کہا کہ اگر حکومت سرکاری ملازمین، اساتذہ، ورکرس اور پنشنرس کے مسائل کی یکسوئی کو نظرانداز کرنے پر کوئی راست اقدام کرنے کا فیصلہ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ ریاستی سرکاری ملازمین، اساتذ، ورکرس اور پنشنرس کی مشترکہ جدوجہد کمیٹی کے زیراہتمام سندریا وگیان کیندرم میں سرکاری ملازمین کے حقوق کا تحفظ، مسائل کی یکسوئی کے مطالبہ پر غوروخوض کرکے کوئی فیصلہ کرنے کیلئے منعقدہ راونڈ ٹیبل کانفرنس میں بعض اہم فیصلے کئے گئے اور آئندہ ماہ دوسرے ہفتہ میں ریاست کے تمام سرکاری ملازمین پر مشتمل احتجاجی پروگرام ’’چلو حیدرآباد‘‘ منظم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متبادل ایک طاقتور و فعال مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دینے کے مقصد سے مشاورت اور تیاری کیلئے منعقدہ راونڈ ٹیبل کانفرنس میں سرکاری ملازمین کی 10 یونینوں، اساتذہ کی 26 مختلف تنظیموں (یونینس) اور پنشنرس کے 10 تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں بعض اہم مسائل کی فوری طور پر یکسوئی کرنے کے چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی جانب سے دیئے گئے تیقنات کے باوجود عمل آوری نہ کئے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔ کانفرنس میں عبوری راحت فراہم کرنے کے سلسلہ میں کئے گئے مختلف اعلانات کے بعد آخر میں ملک گیر سطح پر سب سے زیادہ سرکاری ملازمین وغیرہ کو تنخواہیں صرف اور صرف تلنگانہ میں پائے جانے کا اظہار کرنے پر تمام ملازمین و پنشنرس تنظیموں نے اپنے شدید غصہ کا اظہار کیا اور کانفرنس میں دیرینہ مطالبات حل نہ کرنے کی صورت میں راست اقدام کے طور پر انتخابی ڈیوٹیوں سے دوری اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ بہت جلد ریاستی گورنر تلنگانہ مسٹر ای ایس ایل نرسمہن اور چیف سکریٹری سے ملاقات کرکے نمائندگی کرنے کے علاوہ انتخابی ڈیوٹیوں کا بائیکاٹ کرنے سے متعلق نوٹسیں دینے کا بھی فیصلہ کیا۔ اس راونڈ ٹیبل کانفرنس میں اسٹیٹ ٹیچرس یونین ریاستی صدر مسٹر بھوجنگ راؤ، جنرل سکریٹری یو ٹی ایف مسٹر سی روی، ریاستی گورنمنٹ پنشنرس جوائنٹ ایکشن کمیٹی صدر مسٹر کے لکشمیا، مختلف ملازمین یونینوں کے قائدین راجیشم، گوپال ریڈی، سدانندم گوڑ، لکشمن نائیک، وشواس ریڈی، شوکت علی، کونڈل ریڈی، رگھوشنکر ریڈی، چنیا، رگھونندن، چندرا موہن، وینو گوپال سوامی، سومیا و دیگر نے شرکت کی اور اجلاس میں متحدہ طور پر مختلف احتجاجی پروگراموں کو قطعیت دی گئی۔ ان احتجاجی پروگراموں میں 18 ستمبر کو تمام سرکاری ملازمین، اساتذہ ورکرس اپنے اپنے دفاتر میں سیاہ بیاچس لگا کر ڈیوٹی انجام دینے کے علاوہ لنچ وقفہ میں احتجاجی دھرنے منظم کرنے، 19 ستمبر کو ریاستی سرکاری ملازمین، اساتذہ، ورکرس اور پنشنرس کی متحدہ جدوجہد کمیٹی کے وفد کے ساتھ ریاستی گورنر سے ملاقات کرکے نمائندگی کرنے 22 تا 26 ستمبر جدوجہد کمیٹی کے قائدین اضلاع کا دورہ کرکے تمام ملازمین کو احتجاج کیلئے تیار رہنے کی ترغیب دیئے۔ 29 ستمبر کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرس پر ریالیاں اور احتجاجی دھرنا پروگرامس منظم کرنے اور آئندہ ماہ اکٹوبر کے دوسرے ہفتہ میں اجتماعی طور پر تمام ملازمین کا چلو حیدرآباد پروگرام (پولیس اجازت کے مطابق دی جانے والی تاریخ کی روشنی میں) منظم کرنا شامل رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT