Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / سرکاری ملازمین کو 3.14 فیصد مہنگائی بھتہ ‘ ریاستی کابینہ کا فیصلہ

سرکاری ملازمین کو 3.14 فیصد مہنگائی بھتہ ‘ ریاستی کابینہ کا فیصلہ

٭     آوٹ سورسنگ ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ و کنٹراکٹ ملازمین کو باقاعدہ بنانے پر غور
٭    صحافیوں کو مکانات فراہم کرنے بھی بجٹ میں رقمی گنجائش فراہم کرنے سے اتفاق
٭    بجٹ کو قطعیت دینے محکمہ جات کو سات دن میں تجاویز پیش کرنے کی ہدایت
حیدرآباد 7 فبروری ( این ایس ایس ) ریاستی کابینہ نے آج مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کو سات دن کی مہلت دیتے ہوئے ان سے کہا ہے کہ وہ بجٹ میں اپنے اپنے محکمہ کیلئے رقمی ضرورتوں کی تجاویز پیش کردیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں آج ریاستی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا ۔ انہوں نے مختلف محکمہ جات کے پرنسپال سکریٹریز اور صدر شعبہ جات کو ہدایت دی کہ وہ بجٹ تجاویز اور رقمی ضرورت سے متعلق کاموں کو اندرون سات دن مکمل کرلیں۔ کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک عہدیدار نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ اطلاع دی اور کہا کہ عہدیداروں کو بجٹ میں رقمی ضرورتوں سے حکومت کو واقف کروانے کیلئے صرف ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں کے سوال پر عہدیدار نے واضح کیا کہ کابینہ کی ہدایت کے مطابق ہم اب بجٹ تجاویز اور سیکٹر ‘ پراجیکٹس اور محکمہ جات کی ضرورتوں کو قطعیت دینے کیلئے مصروف ہوجائیں گے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ کابینہ نے کنٹراکٹ ملازمین کو مستقل کرنے اور آوٹ سورسنگ ملازمین کی اجرتوں اور تنخواہوں میں اضافہ کرنے کو بھی منطوری دیدی ہے ۔ اس کے علاوہ ریاستی کابینہ نے ریاستی ملازمین کو مہنگائی الاؤنس 3.14 فیصد ادا کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ جی ایچ ایم سی انتخابات میں ٹی آر ایس کی شاندار پر انتہائی مسرور ہیں اور انہوں نے شہر میں غریبوں کو ایک لاکھ مکانات تعمیر کرکے دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ پتہ چلا ہے کہ اس صورت میں عہدیدار چاہتے ہیں کہ بجٹ میں اس کام کیلئے خاطر خواہ رقم مختص کی جائے ۔ حیدرآباد میں صحافیوں کو مکانات فراہم کے مقصد سے بھی سمجھا جاتا ہے کہ کابینہ نے بجٹ میں رقم مختص کرنے کا شاارہ دیا ہے ۔ یہ رقم بجٹ 2016 میں مختص کی جائیگی ۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کے ساتھ حکومت کی ترجیحات اور ضرورت پر مبنی فنڈز فراہم کرنے کے تعلق سے تبادلہ خیال کیا ۔ خزانہ کی حالت کو مستحکم کرنے کفایتی اقدامات اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے چیف منسٹر نے سمجھا جاتا ہے کہ یہ واضح کیا کہ غیر ترجیحی شعبہ جات کو کم رقم فراہم کی جائے ۔ حکومت کے اصل پراجیکٹس جیسے غریبوں کیلئے دو بیڈ روم کے مکانات ‘ مشن کاکتیہ ‘ مشن بھگیرتا اور فلاحی اسکیمات وغیرہ کیلئے بجٹ میں خاطر خواہ رقومات مختص کی جائیں گی ۔ ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا امکان ہے کہ آئندہ ماہ مارچ کے ابتدائی ہفتے یا فبروری کے آخری ہفتے میں انعقاد عمل میں آئیگا ۔ سیاست نیوزکے بموجب کابینہ نے ماہ مارچ میں اسمبلی و کونسل بجٹ سیشن کا انعقاد عمل میں لانے‘ حقیقی مصارف پر مبنی بجٹ مرتب کرنے ہارٹیکلچر پیداوار کو فروغ دینے اور نقلی و ملاوٹ شدہ اشیائے خوردو نوش کا تدارک کرنے و پیداواری اشیا کیلئے پروسیسنگ سنٹرس قائم کرنے تلنگانہ اسٹیٹ ہارٹیکلچر کارپوریشن کا قیام عمل میں لانے کا فیصلہ کیا۔  کابینہ اجلاس کے بعد مسرز ٹی ناگیشور راؤ وزیر عمارات و شوارع، پوچارم سرینواس ریڈی وزیر زراعت کے ساتھ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر آبپاشی مسٹر ٹی ہریش راؤ نے بتایا کہ چیف منسٹر نے ریاستی بجٹ کو حقیقی مصارف پر مبنی انداز میں مرتب کرنے کے ساتھ سابق بجٹ تیاری کے طریقہ کار کو ختم کرکے نئے انداز میں بجٹ کی تیاری کو یقینی بنانے کی عہدیداروں کو ہدایات دیں۔ انہوں نے بتایا کہ حقیقی مصارف پر مبنی بجٹ تیاری کیلئے عہدیداروں کو ایک ہفتہ کی مہلت دی ہے اور ہر ایک محکمہ واری اساس پر بجٹ مسودوں کا خود چیف منسٹر کے سی آر راست جائزہ لیں گے۔ وزیر آبپاشی مسٹر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ ریاستی کابینہ نے ضلع کھمم میں 5 لاکھ ہیکٹرس اراضیات کو پانی کی سربراہی کو یقینی بنانے کیلئے دومو گوڑم ذخیرہ آب سے پانی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور سربراہی آب اسکیم کو ’سری راما سربراہ آب اسکیم‘ کے نام موسوم کرنے کا فیصلہ کیا۔وزیر زراعت سرینواس ریڈی نے بتایا کہ تلنگانہ کے عوام کی ضروریات کو پورا کرنے 67.83 لاکھ ٹن ہارٹیکلچر پیداواری اشیائے خوردونوش درکار ہیں۔ انہوں نے ہارٹیکلچر محکمہ کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے اور حکومت کے فیصلہ پر عمل آوری کو یقینی بنانے محکمہ میں مخلوعہ جائیدادوں پر جلد سے جلد تقررات عمل میں لانے کا اعلان کیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں تلگو فلم انڈسٹری کی ترقی کیلئے اقدامات کرنے وزیر کمرشیل ٹیکسیس و سنیماٹوگرافی ٹی سرینواس یادو کی زیرقیادت کابینی سب کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر مسٹر نوین متل کمشنر محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT