Wednesday , July 18 2018
Home / شہر کی خبریں / سرکاری ملازمین کی توہین ، آر ٹی سی ملازمین کو دھمکانے کے خلاف انتباہ

سرکاری ملازمین کی توہین ، آر ٹی سی ملازمین کو دھمکانے کے خلاف انتباہ

چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کے طرز عمل پر سابق ایم پی کانگریس پونم پربھاکر کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 17 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر نے مشاورت کے لیے طلب کر کے سرکاری ایمپلائز کی توہین کرنے کا چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر پر الزام عائد کیا ۔ آر ٹی سی ایمپلائز کو ڈرانے دھمکانے کے خلاف سخت انتباہ دیا ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے کہا کہ سرکاری ایمپلائز اور ٹیچرس تنظیموں کے نمائندوں کو مشاورت کے لیے پرگتی بھون طلب کیا تھا جس پر ڈھائی سو تا تین سو سرکاری نمائندے پہونچے تھے مگر صرف 10 نمائندوں کو پرگتی بھون میں طلب کرتے ہوئے باقی اضلاع سے پہونچنے والے نمائندوں کی توہین کی گئی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اس معاملے میں گھمنڈ و تکبر کا مظاہرہ کیا ہے ۔ چار گھنٹوں تک اجلاس منعقد کرنے کے باوجود پی آر سی کمیٹی کی تشکیل ، تبادلوں کے لیے مہلت کے علاوہ دوسرے کوئی اعلانات نہیں کئے گئے ۔ انہوں نے ٹی آر ایس حکومت سے وضاحت طلب کی کہ وہ سرکاری ملازمین کے مسائل کی یکسوئی کے لیے جو ٹریبونل تھا اس کو کیوں برخاست کیا گیا ۔ پونم پربھاکر نے 44 فیصد فٹمنٹ کے معاملے عوام کو گمراہ کرنے کا چیف منسٹر کے سی آر پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب روشیا چیف منسٹر تھے انہوں نے 39 فیصد عبوری پی آر سی فراہم کی تھی اس میں صرف 5 فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ اس کو اپنا کارنامہ قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔ سابق رکن پارلیمنٹ نے چیف منسٹر پر آر ٹی سی ایمپلائز کو ڈرانے دھمکانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آر ٹی سی کے انتخابات کے موقع پر چیف منسٹر اس طرح کے ریمارکس کرتے تو بہتر تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جن اداروں کے کویتا اور کے ٹی آر اعزازی صدر ہیں وہاں کوئی مسائل نہیں ۔ آر ٹی سی کے اعزازی صدر ہریش راؤ ہے اس لیے چیف منسٹر آر ٹی سی کو بند کردینے کا انتباہ دے رہے ہیں ۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ تلنگانہ کی تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے قائدین عہدوں کے لیے چیف منسٹر کی چمچہ گری کررہے ہیں ۔ جس سے مسائل حل ہونے کے بجائے پیچیدہ ہورہے ہیں ۔ عہدے حاصل کرنے والے قائدین چیف منسٹر کے گھمنڈ و تکبر کو ہنس کر سہتے ہوئے دوسرے ایمپلائز کی توہین کررہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT