Wednesday , October 24 2018
Home / آپ کے سوال / سرکاری ملازم کو مرحومہ بیوی کی تدفین کیلئے رقم کی ادائیگی

سرکاری ملازم کو مرحومہ بیوی کی تدفین کیلئے رقم کی ادائیگی

سوال : میری والدہ کا انتقال ہوا جس کی تدفین کیلئے حکومت کی جانب سے رقم دی گئی ۔ جس کے نامزد کردہ مرحومہ کے شوہر ہے جو کہ سرکاری ملازم ہے اور سرکاری ملازم کو اس طرح حکومت تعاون کرتی ہے۔ شرعاً اس رقم سے قبر بنانا اور اس کی ماباقی رقم کسی دینی مدرسہ کو دینا درست ہے یا نہیں۔ نیز مرحومہ کی متروکہ رقم و جائیداد کی تقسیم کیسی ہونی چاہئے ۔ جس کے ورثاء میں شوہر کے علاوہ دو بیٹیاں اور تین بھائی اور دو بہنیں ہیں۔
عبدالرقیب، نامپلی
جواب : سرکاری ملازم کو اس کی بیوی کے انتقال پر حکومت کی جانب سے تجہیز و تکفین کے مصارف کے لئے دی گئی رقم سے قبر بنانا اور شوہر کا مابقی رقم اپنے حسب مرضی خرچ کرنا درست ہے۔ مرحومہ کے انتقال کے وقت جو کچھ اس کی ملکیت میں تھا وہ مرحومہ کا متروکہ ہے۔ جس کے بعد ادائی قرض و اجرائی وصیت برائے غیر وارث در ثلث مابقی ایک سو آٹھ حصے کر کے مرحومہ کے شوہر کو ستائیس (27) دونوں لڑکیوں سے ہر ایک کو چھتیں (36) ، تینوں بھائیوں کو فی کس دو تینوں بہنوں کو ایک(1) ایک (1) حصہ دیا جائے ۔

نماز جنازہ میں تکبیرات کے بعد ہاتھ چھوڑنا
سوال : امام صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیرنے تک ہاتھ باندھے رکھا ۔ بعض اصحاب نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ نماز نہیں ہوئی ۔ ایسی صورت میں شرعاً نماز جنازہ ہوئی یا نہیں ؟
نعمان علی،کاٹے دھن
جواب : نماز جنازہ میں دو فرض ہیں۔ (1) چار تکبیرات یعنی چار مرتبہ اللہ اکبر کہنا (2) قیام یعنی کھڑے ہوکر نماز پڑھنا، نماز جنازہ میں تین امور مسنون ہیں۔ پہلی تکبیر کے بعد حمد و ثناء پڑھنا، دوسری تکبیر کے بعد درود شریف پڑھنا، تیسری تکبیر کے بعد میت کے لئے دعا کرنا۔ اس کے علاوہ جو امور ہیں وہ مستحبات و آداب سے تعلق رکھتے ہیں، فرائض کی تکمیل سے نماز ادا ہوجاتی ہے ۔
فقہاء کرام نے کن مواقع پر ہاتھ باندھے رہنا چاہئے اور کن مواقع پر ہاتھ چھوڑ دینا چاہئے، اس سلسلہ میں ایک قاعدہ بیان کیا ہے ، وہ یہ کہ ہر وہ قیام جس میں کوئی ذکر مسنون ہو ہاتھ باندھے رہیں اور جس قیام میں کوئی ذکر مسنون نہ ہو اس میں ہاتھ چھوڑدیں ، ذکر سے مراد ذکر طویل ہے ورنہ تحمید و تسمیع یعنی سمع اللہ لمن حمدہ ، ربنا لک الحمد بھی ذکر ہے ۔ اس کے باوجود قومہ میں ہاتھ باندھنا نہیں ہے۔
… و یضع یمینہ علی شمالہ تحت سرتہ کالقنوت و صلوٰۃ الجنازۃ و یرسل فی قومۃ الرکوع و بین تکبیرات العیدین فالحاصل ان کل قیام فیہ ذکر مسنون ففیہ الوضع و کل قیام لیس کذا ففیہ الارسال (شرح و قایہ جلد اول ص : 144) اس کے حاشیہ 7 میں ہے… فان قلت یخرج عنہ القومۃ لان فیھا ذکر امسنونا وھوالتحمید والتسمیع قلت المراد بالذکر الذکر الطویل …
مذکورہ در سوال صورت میں خاص طور پر امام صاحب کو اور ان کی اقتداء کرنے والوں کو نماز کے ارکان و شرائط مستحبات و آداب کی رعایت رکھتے ہوئے نماز ادا کرنا چاہئے ۔ مذکورہ صورت میں نماز ادا ہوگئی تاہم خلاف استحباب عمل ہوا ہے۔ مصلیوں کا اعتراض صحیح نہیں۔

مسجد اور گھر میں باجماعت نماز کا ثواب
سوال : میں کینیڈا میں مقیم ہوں، میرے ساتھ چند مسلم نوجوان ہیں۔ ہمارے محلہ میں مسجد نہیں ہے ، معلوم کرنا یہ ہے کہ اگر کسی آبادی سے مسجد کچھ کم یا زائد تین کیلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہو کہ جس کی وجہ سے مسلمانوں کا نماز پنجگانہ میں شریک ہونا دشوار ہو اور ایسی صورت میں مقامی مسلمان کسی ایک مکان کو مرکز بنائیں اور وہاں جمع ہوکر نماز پنجگانہ کا باجماعت اہتمام کریں تو جماعت کا ثواب اور مسجد میں نماز ادا کرنے کی فضیلت حاصل ہوگی یا نہیں ؟
عبدالمنان خان، ای میل
جواب : کسی مسلم آبادی سے مسجد دور ہونیکی وجہ اگر وہاں کے مسلمان کسی مکان کو عارضی طور پر باجماعت نماز ادا کرنے کے لئے مختص کرلیں تو بفحوائے حدیث پاک ’’ صلوٰۃ الرجل فی جماعۃ تضعف علی صلوٰتہ فی بیتہ و فی سوقہ خمسا و عشرین ضعفا … صلوٰۃ الجماعۃ افضل من صلوٰۃ الف بسبع و عشرین (رواہ البخاری) پچیس گنا یا ستائیس گنا مضاعف اجر و ثواب کے مستحق ہوں گے ۔ تاہم مسجد کی فضیلت جو احادیث میں وارد ہے وہ اس عارضی مکان کو نہ فضیلت حاصل رہے گی نہ ہی آداب مسجد اس میں شرعاً ملحوظ رہیں گے چونکہ اسلامی معاشرہ میں مسجد کو بنیادی اہمیت و مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ ہجرت فرماکر سب سے پہلے اپنے اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ مل کر مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیر فرمائی۔ حدیث پاک میں وارد ہے کہ قیامت کی ہولناک گھڑی میں جہاں جہاں لوگ گرمی کی شدت سے اپنے اعمال کے مطابق پسینہ میں شرابور ہوں گے اور جہاں حصول راحت کیلئے کوئی سایہ نہ ہوگا ، حق سبحانہ و تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے سات قسم کے لوگوں کو عرش کے سایہ میں جگہ عطا فرمائیں گے ، انہیں میں سے ایک وہ بھی ہیں جن کے قلوب مسجد میں لگے رہیں گے۔ قلبہ معلق فی المساجد (بخاری، مسلم بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح) اور ایک حدیث پاک میں ہے کہ اللہ کے وہ نیک بندے جو صبح و شام مساجد کا رخ کرتے ہیں ، حق سبحانہ تعالیٰ ان کے لئے جنت میں مہمانی کا سامان مہیا فرماتا ہے ۔ من غدا الی المسجد اوراح اعداللہ لہ نزلہ من الجنۃ کلما غدا اوراح (بخاری، مسلم بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح)۔ ایک مرتبہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے ارشاد فرمایا کہ تم جنت کے باغوں سے گزرو تو اپنے آپ کو خوب سیراب کرلو ۔ عرض کیا گیا جنت کے باغ کونسے ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ ’’مساجد‘‘ ہیں۔
عن ابی ھریرۃ رصی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا مرر تم بریاض الجنۃ فارتعوا ۔ قیل یا رسول اللہ و ما ریاض الجناۃ قال المساجد ( مشکوٰۃ المصابیح ص : 70 بحوالہ ابو داؤد) ۔ نیز حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ روئے زمیں پر سب سے بہترین اور خیر کے حامل مساجد ہیں ۔ ’’ خیر البقاع مساجد‘‘ بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح ص : 71 ۔ ( ابن حبان ) مذکورہ آبادی کے مسلمانوں کو چاہئے کہ مسجد کی تعمیر کا اہتمام کریں تاکہ وہاں کے مسلمان مسجد کے مذکورہ بالا برکات و ثمرات سے بہرہ مند ہوسکیں۔

مسلمان لڑکی کا مندر میں غیر مسلم سے شادی کرنا
سوال : ایک مسلمان لڑکی سے زندگی میں ایک بہت بڑی غلطی سرزد ہوئی وہ یہ کہ اس نے کچھ نادانی و جوانی کے اندھے جوش میں ایک غیر مسلم لڑکے سے مندر میں ہندو رسم و رواج کے مطابق اپنا نام غیرمسلم درج کرتے ہوئے شادی کی ۔ چند ماہ اس کے ساتھ رہنے کے بعد اب وہ لڑکی اپنے عمل پر سخت نادم ہوکر تائب ہوگئی ہے اور اپنے والدین کے پاس آگئی ہے، مسلم پرسنل لا کے مطابق اس شادی کا کیا حکم ہے، ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی ہونے کی بناء چونکہ دستاویز اسی طرح تیار ہوچکے ہیں۔ اس کو کالعدم کرنے کے لئے شرعی فیصلہ مقصود ہے۔ اب یہ لڑکی اپنے والدین کے پاس مقیم ہے ۔ اس کا نکاح اب کسی مسلم لڑکے سے کیا جائے تو شرعاً کیا حکم ہے ؟
شفیع اللہ، دبیر پورہ
جواب : اسلامی قانون کی رو سے ایک مسلم مرد مسلمان اور اہل کتاب عورت سے نکاح کرنے کا شرعاً مجاز ہے لیکن مسلمان خاتون کا نکاح سوائے مسلم مرد کے کسی اور سے منعقد نہیں ہوتا یعنی مسلمان خاتون کا نکاح نااہل کتاب مرد سے ہوسکتا ہے نہ ہی کسی غیر مسلم سے۔ البتہ مسلم لڑکی اگر مرتدہ ہوکر غیر مسلم مرد سے شادی کرلی تھی اور اب غیر اسلامی عقائد و نظریات سے تائب ہوکر پھراسلام قبول کرلی ہے تو اس کا رشتہ نکاح غیر مسلم سے منقطع ہوچکا ہے ۔ تاریخ علحدگی سے تین حیض کی مدت گزار کر وہ کسی مسلم لڑکے سے نکاح کرلینے کی شرعاً مجاز ہے۔ وان اسلم احد الزوجین فی دارالحرب فان الفرقۃ تصف علی مصنی ثلاث حیض … (تاتار خانیہ ج : 3 ص : 182 )

امامت اور عمامہ کا اہتمام
سوال : امام صاحب کو بوقت نماز عمامہ کا اہتمام کرنا چاہئے یا نہیں۔ شرعاً اس بارے میں کیا حکم ہے ؟
سید زاہد ، مولا علی
جواب : نماز کی ادائیگی کے وقت زینت کا اہتمام یعنی شرعی وضع قطع و ہئیت پسندیدہ امر ہے ۔حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام و تابعین عظام اور صالحین امت کا یہی معمولی رہا ہے ۔ اس اہتمام زینت میں عمامہ بھی شامل ہے، بوقت نماز عمامہ کا اہتمام خواہ مقتدی ہو کہ امام کئی گنا اجر و ثواب کا موجب و باعث فضیلت ہے۔ دیلمی نے اپنی سند میں یہ روایت نقل کی ہے کہ عمامہ کے ساتھ ادا کی گئی نماز اس کے بغیر ادا کی گئی، نماز سے پچیس گنا زیادہ ثواب رکھتی ہے۔ علی ہذا نماز جمعہ کا ثواب اسکے ساتھ ستر جمعہ کی فضیلت رکھتا ہے ۔ نیز جمعہ کے دن فرشتہ عمامہ باندھ کر آتے ہیں اور عمامہ کے ساتھ نماز ادا کرنے والوں کیلئے غروب آفتاب تک دعا کرتے ہیں۔ صلاۃ بعمامۃ تعدل بخمس و عشرین صلاۃ و جمعۃ بعمامۃ تعدل سبعین جمعۃ و فیہ ان الملائکۃ تشھدون الجمعۃ معتمین و یصلون علی اھل العمائم حتی تغیب الشمس ۔ مقتدی کے بالمقابل امام صاحب پر زائد ذمہ داری ہے کیونکہ شرائط امامت میں جو اوصاف شرعاً ملحوظ ہیں وہ مقتدی میں نہیں اس لئے امام صاحب کو چاہئے کہ وہ عمامہ کا ضرور اہتمام کریں۔

عدم صحت اور منت کی تکمیل
مرحومہ بیوی کے مہر کی ادائی کا طریقہ
سوال : میرے بھائی اپنی بیمار اہلیہ کی صحت یابی کے لئے ایک ماہ کے روزوں کی منت کی تھی لیکن ان کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا، اب ان کو روزوں کی منت پوری کرنی ہوگی یا اس کا کفارہ دینا ہوگا۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کے نام پر مکان ، فارم ہاؤز لئے تھے، کافی زیور وغیرہ بھی دیا تھا لیکن مہر کی رقم ادا نہیں کی تھی۔ اب جب کہ ان کی اہلیہ کا انتقال ہوچکا ہے۔ ان کی کوئی اولاد بھی نہیں ہے۔ اب وہ مہر کی رقم کن کو دیں۔ بیوی کے بھائی بہن کو یا خیرات کردیں۔
ایک صاحب عرفات میں جہاں غذا کی پاکٹیں تقسیم کئے جارہے تھے، اپنے لئے ایک پاکٹ لے لی دوسروں کے کہنے پر ایک اور پاکٹ پہلی پاکٹ کہہ کر اللہ قسم کھائی ۔لیکن کچھ دیر بعد ان کو کافی ملال اور ندامت ہوئی کہ اللہ قسم کہہ کر لی اس جگہ ایسا گناہ ہوگیا فوراً اس پاکٹ کو وہاں لے جاکر کسی کو بتائے بغیر رکھ آئے۔ کیا اس عمل سے وہ گنہگار ہوں گے یا ان کو کفارہ دینا ہوگا، کفارہ کیا ہوگا ؟ استدعا ہے کہ ان سوالات کو آپ کے کالم ’’ مسائل اور شرعی احکام‘‘ میں جگہ دیکر مشکور فرمائیں۔
محمد عبدالرؤف، پرانی حویلی
جواب : آپ کے بھائی نے اپنی اہلیہ کی صحتیابی پر ایک ماہ کے روزہ کی منت کی تھی اور ان کی اہلیہ کو صحت نہ ہوئی اور وہ انتقال کرگئیں تو چونکہ منت پوری نہیں ہوئی اس لئے ان کے ذمہ ایک ماہ کے روزوں کا لزوم نہیں۔ مرحومہ کے انتقال کے وقت جو کچھ ان کی ملکیت میں تھا بشمول مہر ان کا متروکہ ہے جس کے بعد ادائی قرض و اجرائی وصیت برائے غیر وارث در ثلث مابقی مرحومہ لا ولد ہونے کی بناء نصف حصہ کے حقدار ان کے شوہر ہیں۔ مابقی نصف متروکہ مرحومہ کے بھائی بہنوں میں فی بھائی دو فی بہن ایک کے حساب سے تقسیم ہوگا۔
جھوٹی قسم کھانا گناہ کبیرہ ہے ۔ اس کا مرتکب فاسق و فاجر ہے ۔ آپ نے جھوٹی قسم کھاکر جو غذا کا پاکٹ لیا تھا وہ واپس کردیا تو بہت بہتر کیا۔ اب صدق دل سے اپنے کئے پر نادم ہوکر توبہ کرلیں اور آئندہ مستقبل میں کبھی جھوٹی قسم نہ کھانے کا عہد واثق کرلیں۔

TOPPOPULARRECENT