Saturday , December 15 2018

سرکاری و خانگی اسکولوں کے باب الداخلوں کے سامنے کچرے کے انبار

جی ایچ ایم سی کی مجرمانہ غفلت ، محکمہ تعلیمات کی خاموشی ، طلبہ کی صحت کے لیے خطرہ نمائندہ خصوصی

جی ایچ ایم سی کی مجرمانہ غفلت ، محکمہ تعلیمات کی خاموشی ، طلبہ کی صحت کے لیے خطرہ
نمائندہ خصوصی
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اکٹوبر : وزیر اعظم نریندر مودی نے صاف ستھرے ہندوستان کے لیے باضابطہ ’ سوچ بھارت ‘ مہم کا آغاز کیا ۔ دہلی کے تاریخی لال قلعہ سے یوم آزادی کے موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ آئندہ 5 برسوں میں ملک کی گلی گلی کو صاف کردیا جائے گا ۔ اس مہم کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے آپ پارٹی کے لیڈر اروند کجریوال کی طرح جھاڑو دی تمام ان کی دیکھا دیکھی ، کابینی وزراء نے بھی نہ چاہتے ہوئے بھی دفاتر میں جھاڑو دینا شروع کیا ۔ دوسری جانب ممتاز صنعت کار انیل امبانی سے لے کر سابق کرکٹر اور رکن راجیہ سبھا سچن ٹنڈولکر نے بھی مختلف مقامات پر جھاڑو لگائی ۔ غرض بی جے پی لیڈروں سے لے کر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے ہاتھوں میں کچھ دیر کے لیے جھاڑو دکھائی دیں ۔ بہر حال ایسا لگتا ہے کہ کچھ دنوں تک جھاڑو دینے اور صاف صفائی کی یہ مہم جاری رہے گی اور پھر حکمرانوں ، سیاستدانوں کے وعدوں کی طرح اس مہم کا بھی خاتمہ ہوجائے گا ۔ قارئین … مرکزی و ریاستی حکومتیں صفائی پر خصوصی توجہ مرکوز کررہی ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پرانا شہر کے کئی اسکولس ( سرکاری و غیر سرکاری ) ایسے ہیں جن کے باب الداخلوں کے باہر کچرے کے انبار پڑے ہوئے ہیں ۔ اس بارے میں اولیائے طلبہ کا کہنا ہے کہ جی ایچ ایم سی کے اعلیٰ عہدیدار اس کے ذمہ دار ہیں ۔ ان کی مجرمانہ غفلت کے باعث ہی اسکولوں کے باہر کچرے کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں نتیجہ میں اسکولی طلباء وطالبات کی صحت کے لیے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں ۔ ویسے بھی شہر میں مچھروں کی بہتات اور مختلف محلہ جات میں کچرا ڈالنے کے لیے رکھے گئے کوڑے دانوں کی بروقت نکاسی میں بلدیہ کی ناکامی کی شکایات عام ہیں ۔ راقم الحروف نے کوٹلہ عالیجاہ ، مغل پورہ ، شاہ علی بنڈہ ، جیسے مقامات پر دیکھا کہ سرکاری اور خانگی اسکولوں کی گیٹس کے بالکل قریب کچرا پڑا ہوا ہے ۔ شائد وہاں سے بلدیہ اور محکمہ تعلیمات کے عہدہ دار بھی گذرتے ہوں گے ۔ لیکن کسی کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ وہ معصوم بچوں کو جو حصول علم کے لیے اسکول آتے ہیں کچرے سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچانے کی فکر کریں ۔ ویسے بھی شہر کے سرکاری اسکولس بڑی تیزی کے ساتھ سمٹتے جارہے ہیں ۔ کچھ برس قبل تک ہمارے شہر میں جہاں وسیع و عریض اور بڑے بڑے میدانوں کے حامل اسکول ہوا کرتے تھے اب تنگ ذہنیت کی طرح وہ بھی تنگ و تاریک ہوتے جارہے ہیں ۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک ہی عمارت میں کام کرنے والے دو تا چار اسکولس مستقبل میں دو تا چار ملگیوں پر مشتمل اسکولوں میں تبدیل ہوجائیں گے ۔ حیرت اس بات کی ہے کہ سرکاری اسکولوں کی عمارتوں اور ان میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے کئی کروڑ روپئے منظور کئے گئے ۔ مارچ 2013 میں آندھرا ۔ تلنگانہ میں 737 ماڈل اسکولس تعمیر کرانے کا اعلان کیا گیا اور پہلے مرحلہ کے تحت 1072.10 کروڑ روپئے کی لاگت سے 355 ماڈل اسکولس کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس سلسلہ میں اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کو ذمہ داری سونپی گئی ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسکولی تعلیم کو معیاری بنانے ، اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے منظور کی جارہی رقومات کا آخر کیا ہورہا ہے ؟ اسی طرح جی ایچ ایم سی حکام صرف اور صرف پرانا شہر کو نظر انداز کیوں کررہے ہیں ۔ اولیائے طلبہ اب سوال کرنے لگے ہیں کہ کیا جی ایچ ایم سی عہدہ دار یہ پسند کریں گے کہ ان کے اپنے گھروں کے باب الداخلوں پر کچرے کے انبار پڑے رہیں ؟ اگر انہیں اپنے گھروں کے باہر یا قریب بھی کچرے کے انبار اور ان سے پھیلنے والا تعفن گوارا نہیں تو پھر وہ اسکولوں کے باب الداخلہ کے سامنے پڑے ہوئے کچرے کی نکاسی پر توجہ کیوں نہیں دیتے ؟ آخر وہ طلبہ کی زندگیوں اور ان کی صحت سے کھلواڑ کیوں کررہے ہیں ۔ طلباء وطالبات کا کہنا ہے کہ بلدیہ کی غفلت کے باعث ہی کچرہ کی نکاسی نہیں ہورہی ہے ۔ اگر بلدی عملہ خاص کر کمشنر بلدیہ حرکت میں آئیں تو چند گھنٹوں میں اس کچرے کی نکاسی ہوسکتی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT