Wednesday , December 12 2018

سرکاری پروگرامس کی نگرانی نیتی آیوگ کا اصل ذمہ :مرکز

نئی دہلی 19 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) چونکہ مرکزی حکومت کی جانب سے مرکزی منصوبہ جاتی اخراجات کیلئے لاکھوں کروڑ روپئے مختص کئے جاتے ہیں نیتی آیوگ اب حکومت کی پروگراموں اور نئی اسکیمات پر عمل آوری کی موثر اور سرگرم نگرانی کریگا ۔ مرکزی وزیر منصوبہ بندی راؤ اندر جیت سنگھ نے آج یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ مرکزی منصوبہ جاتی اخراجات 5

نئی دہلی 19 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) چونکہ مرکزی حکومت کی جانب سے مرکزی منصوبہ جاتی اخراجات کیلئے لاکھوں کروڑ روپئے مختص کئے جاتے ہیں نیتی آیوگ اب حکومت کی پروگراموں اور نئی اسکیمات پر عمل آوری کی موثر اور سرگرم نگرانی کریگا ۔ مرکزی وزیر منصوبہ بندی راؤ اندر جیت سنگھ نے آج یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ مرکزی منصوبہ جاتی اخراجات 5.75 لاکھ کروڑ روپئے کے ہیں اور انہیں سالانہ ترقیاتی ایجنڈہ کیلئے مختص کیا جاتا ہے اس لئے یہ شدید ضروری ہے کہ ان رقومات کے خرچ کی نگرانی کی جائے ‘ انہیں موثر بنایا جائے اور اس تعلق سے منصوبہ بندی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ نیتی آیوگ کے سامنے ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ حکومت کے پروگراموں اور اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لے اور ان کی نگرانی کی جائے ۔ مرکزی وزیر یہاں ایک تقریب کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کر رہے تھے ۔ یہ تقریب در اصل اس حکمت عملی پر توجہ دینے کے مقصد سے منعقد ہوئی ہے جس کے ذریعہ شعور بیدار کیا ائے اور جائزہ کے عمل کو حکومت کی پالیسیوں اور پروگراموں کو بانتیجہ بنانے کے ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جائے ۔ راؤ اندر جیت سنگھ نے کہا کہ تشخیص کے عمل کو وقت کا پابند ‘ اقدار پر مبنی اور موثر بنانے کی ضرورت ہے اور اس پر آزادانہ اداروں سے رائے حاصل کی جانی چاہئے اور اس میں مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ نگرانی اور تشخیص کے عمل کی ایک طویل تاریخ رہنے کے باوجود ملک میں ایک قومی تشخیص پالیسی تیار نہیں کی گئی ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ایک قومی تشخیص پالیسی تیار کریں جس کے نتیجہ میں نگرانی کے عمل کی سرگرمیوں کو اقدار پر مبنی طریقہ کار کے ذریعہ آگے بڑھایا جائے ۔ اقوام متحدہ کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ مقاصد کی تکمیل کیلئے نشانے مقرر کئے جائیں ۔ اس سے عالمی ترقی کی بنیاد فراہم ہوگی اور یہ عمل آئندہ 15 برسوں میں پورا ہوسکتا ہے ۔ اس تقریب کا اہتمام نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فار لیبر اکنامکس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور پروگرام تشخیص تنظیم ( نیتی آیوگ ) کی جانب سے کیا گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT