Friday , September 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / سرکار دو عالم ﷺ کا معجزہ معراج

سرکار دو عالم ﷺ کا معجزہ معراج

جناب سید محمود بدرالدجی منوری
سفر معراج تاریخ ارتقائے نسل انسانی کا وہ سنگ میل ہے ، جسے قصر ایمان کا بنیادی پتھر بنائے بغیر تاریخ بندگی مکمل نہیں ہوتی اور روح کی تشنگی کا مداوا نہیں ہوتا ۔ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تاریخ انسانی کا ایک ایسا حیرت انگیز انوکھا اور نادر الوقوع واقعہ ہے ، جس کی تفصیلات پر عقل ناقص آج بھی حیران و ششدر ہے ، اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ سفر معراج کیونکر طے ہوا ؟ ۔ عقل حیرت کی تصویر بن جاتی ہے ، مادی فلسفہ کی خوگر ، اربعہ عناصر کی بے دام باندی عقل ناقص یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ انسان کامل حدود سماوی کو عبور کرکے آسمان کی بلندیاں طے کرتا ہوا لامکاں کی وسعتوں تک کیسے پرواز کرسکتا ہے اور وہ سب کچھ دیکھ لیتا ہے جسے دیکھنے کی عام انسانی نظر میں تاب نہیں ، اس لئے حدود و قیود کے پابند لوگ اس بے مثال سفر معراج کے عروج و ارتقاء پر انگشت بدنداں ہیں اور اسے من و عن اور مستند انداز سے مذکورہ تفصیلات کے ساتھ بھی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور ایسے ایسے شبہات وارد کرتے ہیں اور تشکیک کا ایسا غبار اڑاتے ہیں کہ دلائل سے غیر مسلح ذہن اور عام آدمی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور دیوار ایمان متزلزل سی ہونے لگتی ہے ۔
نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے معجزات میں معجزہ معراج خصوصی اہمیت کا حامل ہے ۔ تاریخ انبیاء کی ورق گردانی کی جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اپنے برگزیدہ رسولوں اور نبیوں کو اللہ رب العزت نے اپنے خصوصی معجزات سے نوازا ۔ ہر نبی کو اپنے عہد ، اپنے زمانے اور اپنے علاقے کے حوالے سے معجزات سے نوازا ، تاکہ ان کی حقانیت ہر فرد بشر پر آشکار ہو اور وہ ایمان کی دولت سے سرفراز کیا جائے ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام کی امت چوں کہ جادو میں کمال رکھتی تھی ، ہزاروں جادو گر دربار شاہی سے وابستہ ہوئے ، اس لئے خالق کائنات نے بھی اپنے نبی کو جادو کے ان کمالات کا توڑ کرنے کے لئے معجزات عطا کئے ۔ اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کے دور میں طب کا بڑا چرچا تھا ۔ حضرت عیسی علیہ السلام مردوں کو بھی زندہ کردینے کی قدرت سے فیضیاب تھے ۔ کوڑھیوں کو تندرست کردیتے کہ اس زمانے میں طب کا دور دورہ تھا اور انسانی نفسیات کو بھی بات زیادہ Apeal کرتی ہے ۔ ہر نبی اپنے وقت کے ہر کمال سے آگے ہوتا ہے ۔ امت جس کمال پر فائز ہوتی ہے ، نبی اس کمال پر بھی حاوی ہوتا ہے ۔
اب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تشریف لانا تھا ، باب نبوت و رسالت حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ بند ہو رہا تھا ۔ ختم نبوت کا تاج سر اقدس پر سجایا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خاتم النبیین قرار پائے ۔ چنانچہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ایسے معجزات سے نوازا گیا جن کا مقابلہ تمام زمانوں کی قومیں مل کر بھی نہ کرسکتی تھیں ۔ اللہ رب العزت کو معلوم تھا کہ امت محمدی چاند پر قدم رکھے گی اور ستاروں پر کمندیں ڈالے گی ، لہذا اللہ تعالی نے اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مکاں و لامکاں کی وسعتوں میں سے نکال کر اپنے قرب کی حقیقت عطا فرمائی ، جن کا گمان بھی عقل انسانی میں نہیں آسکتا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا معجزہ معراج ایک طرف تمام معجزات مل کر بھی معجزہ معراج کی ہمہ گیریت اور عالمگیریت کو نہیں پہنچ سکتے ۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دائمی معجزہ ہے ، جس کی عظمت میں وقت کا سفر طے ہونے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جائے گا اور نئے نئے کائناتی انکشافات سامنے آکر معجزہ معراج کی حقانیت کی گواہی دیتے رہیں گے ۔ ارتقاء کے سفر میں اٹھنے والا ہر قدم سفر معراج میں نقوش کف پا کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ میں مکہ سے اٹھا اور براق پر سوار ہوکر بیت المقدس پہنچا ، وہاں سے آسمانوں اور پھر وہاں سے عرش معلی تک گیا ، حتی کہ مکاں و لامکاں کی وسعتیں طے کرتا ہوا مقام قاب قوسین پر پہنچا اور پھر حسن مطلق کا بے نقاب جلوہ کیا ۔ انبیاء کرام سے ملاقاتیں کیں ۔ جو لوٹا تو گھر کے دروازے کی کنڈی ہل رہی تھی اور وضوء کا پانی حرکت میں تھا ۔ ابو لہب اور ابوجہل کی عقل آڑے آ گئی ۔ غبار تشکیک نے حقائق کو چھپا لیا ، جب کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ عشق کی بازی جیت گئے اور صدیق کے لقب سے ملقب ہوئے ۔

TOPPOPULARRECENT