Sunday , September 23 2018
Home / ہندوستان / سریندر کوہلی سمیت 6 مجرمین کی درخواست رحم صدر جمہوریہ نے مسترد کردی

سریندر کوہلی سمیت 6 مجرمین کی درخواست رحم صدر جمہوریہ نے مسترد کردی

نئی دہلی۔ 20؍جولائی (سیاست ڈاٹ کام)۔ سریندر کوہلی کے بشمول 6 مجرمین کی درخواست رحم کو صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج مسترد کردیا۔ ان تمام مجرمین کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔ سریندر کوہلی کو سنسنی خیز نٹھاری سلسلہ وار عصمت ریزی اور قتل کے واقعات میں خاطی پایا گیا ہے۔ کوہلی کے علاوہ رحم کی درخواستیں داخل کرنے والوں میں رینوکا بائی اور س

نئی دہلی۔ 20؍جولائی (سیاست ڈاٹ کام)۔ سریندر کوہلی کے بشمول 6 مجرمین کی درخواست رحم کو صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج مسترد کردیا۔ ان تمام مجرمین کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔ سریندر کوہلی کو سنسنی خیز نٹھاری سلسلہ وار عصمت ریزی اور قتل کے واقعات میں خاطی پایا گیا ہے۔ کوہلی کے علاوہ رحم کی درخواستیں داخل کرنے والوں میں رینوکا بائی اور سیما، راجندر پرہلاد راؤ، واسنک (مہاراشٹرا)، جگدیش (مدھیہ پردیش) اور مہولی رام بورڈولاتی (آسام) شامل ہیں۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ وزارت داخلہ نے ان سے درخواست رحم کی سفارش کی تھی۔

42 سالہ سریندر کوہلی کو جس نے اترپردیش کے نوئیڈا میں نٹھاری بستی میں بچوں کا بے دردانہ قتل کرکے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کئے تھے، ایک تحت کی عدالت نے سزائے موت دی تھی جس کو الٰہ آباد ہائی کورٹ نے برقرار رکھا اور فروری 2011ء میں سپریم کورٹ نے بھی سزائے موت کی توثیق کی تھی۔ اس کیس نے سارے ملک کو مضطرب کردیا تھا۔ بچوں کے قاتل کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ سریندر کوہلی کو 2005ء اور 2006ء کے درمیان سلسلہ وار عصمت ریزی اور قتل واقعات میں خاطی پایا گیا تھا۔ وہ اپنے مالک بزنس مین مہندر سنگھ پنڈھر کے مکان میں رہتا تھا۔

اس کے گھر کے قریب سے ہی کئی لاپتہ بچوں کی نعشیں اور باقیات دستیاب ہوئی تھیں جب کہ کوہلی کے خلاف 16 کیسس درج کئے گئے تھے۔ اس میں چار کیسوں میں اس کو سزائے موت سنائی گئی ہے اور دیگر مقدمات زیر سماعت ہیں۔ دو بہنوں سینوکا بائی اور سیما نے اپنی والدہ اور ایک اور ساتھی کرن شنڈے کے ساتھ مل کر 13 بچوں کا اغواء کیا تھا اور 1990ء تا 1996ء کے درمیان ان میں سے 9 کو ہلاک کردیا تھا، تاہم استغاثہ نے صرف 5 قتل کیسوں کو ثابت کرسکا تھا۔ دونوں بہنوں کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ تیسرا کیس ایک لڑکی کے قتل کا ہے اور دیگر ملزمین پر بھی اغواء اور قتل کے الزامات کے بعد سزائے موت کا فیصلہ قابل اطلاق ہے۔

TOPPOPULARRECENT