Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / سرینواس یادو کی وزارت میں برقراری جمہوریت پر داغ

سرینواس یادو کی وزارت میں برقراری جمہوریت پر داغ

فوری برطرفی کا مطالبہ، سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کا بیان
حیدرآباد /21 جولائی (سیاست نیوز) سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس جاوید احمد نے ٹی سرینواس یادو کی وزارت میں برقراری کو جمہوریت پر بدنما داغ قرار دیتے ہوئے گورنر سے ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ وزارت میں شمولیت سے قبل ٹی سرینواس نے اسمبلی اور تلگودیشم کی ابتدائی رکنیت سے مستعفی ہونے کے اعلان کے علاوہ ایک سے زائد مرتبہ اسپیکر اسمبلی کو استعفی سونپنے کا ادعا کیا تھا، تاہم اسپیکر کی جانب سے استعفی وصول ہونے کی تردید کے بعد ٹی سرینواس کا حقیقی چہرہ منظر عام پر آگیا۔ انھوں نے کہا کہ دھوکہ دینے کے معاملے میں ریاستی وزیر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے علاوہ گورنر کو انھیں برطرف کردینا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ دیگر جماعتوں کے ارکان کا ٹی آر ایس میں شمولیت کا مسئلہ الگ ہے، اس معاملے میں کانگریس پارٹی اسپیکر اسمبلی سے نمائندگی کر رہی ہے اور عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے، لیکن ٹی سرینواس کا معاملہ جداگانہ ہے۔ وہ تلگودیشم کے ٹکٹ پر منتخب ہوکر ٹی آر ایس کی وزارت میں شامل ہوئے ہیں۔ اگر وہ مستعفی ہوکر وزارت میں شامل ہوتے تو کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن وہ اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوئے بغیر 7 ماہ سے وزارت میں شامل ہیں۔ انھوں نے گورنر سے اپیل کی کہ ٹی سرینواس کو کابینہ سے فوراً برطرف کردیں اور گزشتہ سات ماہ کے دوران بحیثیت ریاستی وزیر حاصل کی گئی تنخواہ ان سے طلب کرلیں۔ علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سہولتیں بھی ختم کردی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ پارٹی سے انحراف کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، جب کہ اسپیکر اسمبلی خاموش تماشائی بن کر چیف منسٹر کے غیر جمہوری اقدام کی حمایت کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT