Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / سرینواس یادو کے خلاف سخت کارروائی کی جائے : ریونت ریڈی

سرینواس یادو کے خلاف سخت کارروائی کی جائے : ریونت ریڈی

استعفیٰ پر اسپیکر اسمبلی اور گورنر کا مشتبہ رول ، تلگودیشم قائد کا شدید ردعمل
حیدرآباد ۔ /19 جولائی (سیاست نیوز) سینئر تلگودیشم قائد و رکن اسمبلی مسٹر اے ریونت ریڈی نے وزیر کمرشیل ٹیکسیس مسٹر ٹی سرینواس یادو کے استعفیٰ معاملہ پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور گورنر ریاست تلنگانہ مسٹر ای ایس ایل نرسمہن سے مسٹر سرینواس یادو کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ۔ بصورت دیگر مسٹر سرینواس یادو کے فرضی استعفیٰ کے معاملہ میں گورنر کا رول بھی پائے جانے کا شک و شبہ بھی کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں گورنر کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کی روشنی میں گورنر کی غیر جانبداری و حقیقت پسندی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے یادو کے استعفیٰ معاملہ میں حکومت تلنگانہ اور اسپیکر تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے مشتبہ رول کو ہدف ملامت بنایا اور کہا کہ حکومت اور اسپیکر اسمبلی نے اب تک حقائق کی پردہ پوشی کرتے ہوئے نہ صرف دستور ہند کا مذاق اڑایا بلکہ تلنگانہ عوام کیساتھ بھی زبردست دھوکہ کیا ۔ مسٹر ریونت ریڈی نے وزیر کمرشیل ٹیکس کو نہ صرف وزارتی عہدے سے برطرف کرنے بلکہ سیاسی زندگی کیلئے ہی نااہل قرار دینے کا پرزور مطالبہ کیا ۔ انہوں نے مسٹر سرینواس یادو کے استعفیٰ معاملہ کیلئے اسپیکر تلنگانہ قانون ساز اسمبلی مسٹر مدھو سدن چاری کو مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ بحیثیت اسپیکر اسمبلی غیر جانبدارانہ رول ادا کرنے کے بجائے مسٹر مدھو سدن چاری نے مسٹر سرینواس یادو معاملہ میں بحیثیت تلنگانہ راشٹرا سمتیی قائد کا رول ادا کیا ۔ سینئر قائد تلگودیشم پارٹی و رکن اسمبلی نے مسٹر سرینواس یادو استعفی معاملہ میں اسپیکر اسمبلی کے جانبدارانہ رول پر اپنی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی انحراف کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہائیکورٹ کی جانب سے ہدایت دی جانے پر ان ہدایت کو نظر انداز کرنے کی خاطر اسپیکر اسمبلی مسٹر مدھو سدن چاری نے اطلاع ملنے کے ساتھ ہی ناسازی طبعیت کا بہانہ بناکر دواخانہ میں شریک ہوگئے ۔ مسٹر ریونت ریڈی نے وزیر کمرشیل ٹیکس مسٹر سرینواس یادو کے استعفیٰ معاملہ پر صدرنشین تلنگانہ پریس اکیڈیمی مسٹر اے نارائینا اور صدرنشین تلنگانہ پولیٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کوڈنڈا رام سے فی الفور اپنے ردعمل کا اظہار کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ۔

TOPPOPULARRECENT