Wednesday , February 21 2018
Home / ہندوستان / سرینگر انکاؤنٹر ختم، دو دہشت گردہلاک

سرینگر انکاؤنٹر ختم، دو دہشت گردہلاک

سرینگر 13 فروری (سیاست ڈاٹ کام) سرینگر میں سی آر پی ایف کے کیمپ پر حملے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد قریبی علاقہ کرن نگر کی عمارت میں روپوش لشکر طیبہ کے دو دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ جس کے ساتھ ہی سکیورٹی فورسیس کے ساتھ 32 گھنٹے طویل انکاؤنٹر بھی آج ختم ہوگیا۔ ایک پولیس عہدیدار نے کہاکہ جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی طرف سے اس شہر کے قلبی علاقہ کی ایک زیرتعمیر عمارت سے دہشت گردوں کے صفائے کے لئے یہ سکیورٹی کارروائی کی گئی تھی۔ انھوں نے وضاحت کی کہ اس کارروائی میں فوج شامل نہیں تھی۔ دو نعشیں برآمد ہوئی ہیں جن کے ساتھ اسلحہ بھی دستیاب ہوئے ہیں۔ آئی جی سی آر پی ایف سرینگر روی دیپ ماہی نے کہاکہ سکیورٹی فورسیس کو دو اے کے 47 رائفلیں اور آٹھ میگزینس دستیاب ہیں۔ سکیورٹی فورسیس اور دہشت گردوں کے درمیان کل صبح فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا تھا جس سے دو دن قبل جیش محمد کے دہشت گردوں نے سنجوان فوجی کیمپ پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجہ میں بشمول چھ فوجی سپاہی سات افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ایک رائفل مین کی حاملہ بیوی زخمی ہوگئی تھی۔ کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) ایس پی پانی نے کہاکہ کرن نگر سی آر پی ایف کیمپ پر حملہ کی کوشش میں ملوث دہشت گردوں کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا۔ آئی جی نے سی آر پی ایف کے عہدیداروں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’انکاؤنٹر کے مقام سے دستیاب مواد سے پتہ چلتا ہے کہ عسکریت پسندوں کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا لیکن ان کی ہنوز شناخت نہیں ہوسکی۔ ہم ان کی شناخت کا پتہ چلانے کی کوشش کررہے ہیں‘‘۔ ایس پی پانی نے کہاکہ اس انکاؤنٹر میں کوئی نقصان نہیں پہونچا۔ دہشت گرد چونکہ پانچ منزلہ عمارت میں روپوش تھے اس لئے کئی گھنٹوں تک انکاؤنٹر جاری رہا۔

TOPPOPULARRECENT