Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / سرینگر میں سکیوریٹی فورسس اور طلبہ میں گھمسان جھڑپیں

سرینگر میں سکیوریٹی فورسس اور طلبہ میں گھمسان جھڑپیں

تعلیمی اداروں کی دوبارہ کشادگی کے پہلے دن طلبہ سڑکوں پر نکل آئے، بڑے پیمانے پر تشدد

سری نگر۔24 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وادیٔ کشمیر میں جہاں حکومت کی جانب سے پانچ دن کے لیے بند کردہ تمام تعلیمی اداروں کی دوبارہ کشادگی کے سبب قلب سرینگر کے متعدد تجارتی علاقے پولیس سے طلبہ کے تصادم کے سبب عملاً میدان جنگ میں تبدیل ہوگئے۔ عہدیداروں نے کہا کہ ایم اے روڈ پر ایس پی کالج اور متعلقہ ویمنس کالج سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو جو سنگباری میں ملوث تھے، منتشر کرنے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کے درجنوں شل برسانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ جھڑپیں، ایس پی کالج سے شروع ہوئیں اور جلد ریگل چوک کی گلیوں اور متعلقہ علاقوں تک پھیل گئیں۔ دریں اثناء ویمنس کالج کی طالبات بھی احتجاج میں شامل ہوگئیں اور یہ احتجاج تجارتی مرکز کے دیگر علاقوں تک پھیل گیا۔ پولیس نے ہوائی فائرنگ بھی کی تاہم یہ واصح نہیں ہوسکا کہ آیا انہوں نے کارتوس یا پھر ربر بلٹس کا استعمال کیا تھا۔ طلبہ اور سکیوریٹی فورسس کے درمیان جھڑپوں کے سبب بازار بند کرنا پڑا اور عوام کو تجارتی علاقوں سے باہر نکل کر محفوظ مقامات پر پناہ کے لیے دوڑتا دیکھا گیا۔ یہ تازہ ترین تشدد ایسے وقت پھوٹ پڑا جب وادی کے تعلیمی ادارے پانچ دن بند رکھنے کے بعد دوبارہ کھولے گئے تھے۔ پلواما میں 15 اپریل کو طلبہ پر سکیوریٹی فورسس کی مبینہ دست درازی کے خلاف پیر کو طلبہ نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا جس میں تشدد پھوٹ پڑنے کے سبب حکومت نے احتیاطی تدبیر کے طور پر تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں کو پانچ دن کے لیے بند کردیا تھا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT