سرینگر میں علحدگی پسندوں کی ہڑتال کی اپیل پر معمولاتِ زندگی معطل

پوری ریاست میں تحدیدات نافذ ، سڑکیں سنسان ، گاڑیوں کی نقل و حرکت متاثر ، جامع مسجد سرینگر مقفل

سرینگر۔16 ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے سرنو نامی گاؤں میں مسلح تصادم کے مقام پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 7 عام شہریوں کے ہلاک اور درجنوں دیگر کے زخمی ہونے کیخلاف وادی کشمیر اور خطہ جموں کے مختلف حصوں بالخصوص وادی چناب کے بانہال، بھدرواہ، ڈوڈہ اور کشتواڑ قصبوں میں اتوار کے روز مکمل ہڑتال کی گئی جس سے معمول کی زندگی معطل ہوکر رہ گئی۔مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے شہری ہلاکتوں کیخلاف تین روزہ ماتمی ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔ ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر سرینگر کے پائین شہر کے بیشتر حصوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ رکھی گئیں۔ ضلع پلوامہ میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد کر رکھی گئی ہے۔کشمیر یونیورسٹی اور سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر نے پیر کے روز تک لئے جانے والے امتحانات کی معطلی کا پیشگی اعلان کر رکھا ہے ۔ریاستی پولیس کے مطابق پلوامہ میں پیش آئی شہری ہلاکتوں کے سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے ۔

مشترکہ مزاحمتی قیادت نے پلوامہ ہلاکتوں کیخلاف ہڑتال کی کال دیتے ہوئے کہا تھا کہ فورسزکالے قوانین کے بل پر جواب دہی کے تصور سے بالا تر ہوکر کشمیر میں کھلے عام بربریت اور جارحیت کا ننگا مظاہرہ کررہی ہے اور آئے روز ایک نہ دوسرے بہانے کشمیری اپنے عزیزوں ، جگر کے ٹکڑوں اور پیاروں کے جنازے اٹھانے پر مجبور کئے جارہے ہیں۔ کشمیر انتظامیہ نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال اور احتجاج کی کال کے پیش نظر مزاحمتی قائدین اور دیگر علیحدگی پسند رہنماؤں کو تھانہ یا خانہ نظر بند کردیا ہے ۔ تاہم جے کے ایل ایف چیئرمین محمد یٰسین ملک ’فوجی چھاونی چلو‘ کال کے پیش نظر اپنی گرفتاری کو ٹالنے کے لئے روپوش ہوگئے ہیں۔ وادی میں اتوار کو مسلسل دوسرے دن بھی ریل خدمات معطل رکھی گئیں۔ جنوبی کشمیر کے بیشتر حصوں میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات بدستور منقطع رکھی گئی ہیں جبکہ وسطی کشمیر میں تیزرفتار والی فور جی اور تھری جی موبائیل انٹرنیٹ خدمات بند رکھی گئی ہیں۔ سیکورٹی فورسز نے بیشتر سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا ہے جبکہ لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود رہنے کے لئے کہا جارہا ہے ۔سری نگر کے جن علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں، ان میں امن وامان کی برقراری کیلئے سینکڑوں کی تعداد میں ریاستی پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار تعینات کئے گئے ۔ نالہ مار روڈ کو ایک بار پھر خاردار تاروں سے سیل کردیا گیا ہے ۔ تاہم عیدگاہ کے راستے شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو جانے والے روڑ کو بیماروں و تیمارداروں اور ایمبولینس گاڑیوں کی نقل وحرکت کیلئے کھلا رکھا گیا ہے ۔نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکار تعینات کئے گئے تھے جبکہ اس میں مصلیوں کے داخلے کو روکنے کیلئے اس کا باب الداخلہ مقفل کردیاگیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT