Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / سرینگر میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ ‘اہم علاقوں کی ناکہ بندی

سرینگر میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ ‘اہم علاقوں کی ناکہ بندی

علحدگی پسندوں کی بند کی اپیل ناکام بنانے حکومت کے اقدامات
سری نگر، 10 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر انتظامیہ نے علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کشمیر بند، تاریخی لال چوک میں احتجاجی ریلی اور اقوام متحدہ فوجی مبصرین کے دفتر تک مارچ کی اپیل کے پیش نظر سری نگر کے مختلف حصوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کرکے شہریوں کی نقل وحرکت محدود کردی ہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شہر میں امن وامان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لئے پائین شہر کے ایم آر گنج، نوہٹہ، صفا کدل، رعناواری ، خانیار اور کرال کھڈ جبکہ سیول لائنز کے مائسمہ ، رام منشی باغ اور کوٹھی باغ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا ‘دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت یہ پابندیوں امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے نافذ کی گئی ہیں’۔ان کا الزام ہے کہ کشمیریوں کو بدترین ریاستی تشدد اذیت رسانی کا نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن انسانی حقوق کے چمپئن اپنے تجارتی مفادات کی رکھوالی کے لئے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ حریت کانفرنس کے صدرنشین میرواعظ سمیت درجن بھر علیحدگی پسند قائدین و کارکنوں کو تھانہ یا خانہ نظر بندکردیا ہے ۔انتظامیہ کے دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیوں کے اطلاق کے برخلاف سبھی پابندی والے علاقوں کی صورتحال اتوار کی صبح سے ہی مخدوش نظر آئی۔

انہوں نے بتایا ‘نواح کدل، کاؤ ڈارہ، راجوری کدل، گوجوارہ، نوہٹہ ، بہوری کدل، برابری پورہ اور خواجہ بازار کو جوڑنے والی سڑکوں پر خاردار تار بچھائی گئی ہے ‘۔ پابندی والے علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بندتھے ۔انہوں نے بتایا کہ تاریخی جامع مسجد کو ایک بار پھر مقفل کردیا گیا ہے جبکہ اس کے باہر فوج کی اضافی جمعیت تعینات کی گئی ہے ۔ کچھ ایک حساس جگہوں پر فوج نے اپنی بلٹ پروف گاڑیاں کھڑی کردی ہیں۔پابندی والے علاقوں میں لوگوں نے الزام لگایا کہ مضافاتی علاقوں سے آنے والے دودھ اور سبزی فروشوں کو پابندی والے علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سیول لائنز میں کسی بھی قسم کے احتجاجی جلسوںکو ناکام بنانے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں فوجی تعینات کئے گئے ہیں۔جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کا گڑھ مانے جانے والے میسوم کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو بندکردیا گیا ہے ۔اسی طرح ہائی سیکورٹی زون سونہ وار میں واقع اقوام متحدہ فوجی مبصرین کے دفتر کی جانب جانے والی تمام سڑکوں کو خارداروں تار سے بندکیا گیا ہے ۔ ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ کو تاریخی لال چوک سے مربوط کرنے والے امیر کدل پل کی بھی ناکہ بندی کی گئی۔ علیحدگی پسندوں کے پروگرام کو ناکام بنانے کے لئے شہر کے دوسرے حصوں میں بھی ایسی ہی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT