Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / سرینگر کی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا نہ کی جاسکی ‘ حکومت کی تحدیدات

سرینگر کی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا نہ کی جاسکی ‘ حکومت کی تحدیدات

علیحدگی پسندوں کی احتجاجی مظاہروں کی اپیل پر اقدام ۔ میر واعظ کو گھر پر نظر بند کردیا گیا ‘ چرار شریف نہ جاسکے
سری نگر ، 20 اکتوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر انتظامیہ نے مسلسل تیسرے جمعہ کو بھی گرمائی دارالحکومت سری نگر کے بعض حصوں بالخصوص پائین شہر میں سخت ترین پابندیاں نافذ کرکے نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی ناممکن بنادی۔ قابل ذکر ہے کہ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے وادی کشمیر میں خواتین کے بال کاٹنے میں آئے روز تشویشناک اور شرمناک اضافے کے خلاف جمعہ کے روز نماز کے بعد وادی گیر احتجاجی مظاہرے کرنے کی اپیل کی تھی۔ علیحدگی پسند قیادت نے جمعرات کو جاری اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا ’20 اکتوبر کو نماز جمعہ کے بعدکشمیری اپنی عزت ماب خواتین پر ہورہے حملوں کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرے کریں گے تاکہ دشمنوں پر واضح ہوجائے کہ کشمیری ان حملوں کو کسی بھی صورت میں ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکتے ‘۔ جامع مسجد میں 6 اور 13 اکتوبر کو بھی بندشوں کے ذریعے نماز کی ادائیگی ناممکن بنادی گئی تھی۔ دونوں موقعوں پر علیحدگی پسند قیادت نے کشمیری خواتین کے بال کاٹنے کے واقعات کے خلاف نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تھی۔

کشمیر انتظامیہ نے احتجاج کے دوران پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر شہر کے سات پولیس تھانوں ایم آر گنج، نوہٹہ، خانیار، صفا کدل، رعناواری، کرال کڈھ اور مائسمہ کے تحت آنے والے علاقوں میں جمعہ کی صبح ہی سخت ترین پابندیاں نافذ کیں۔حریت کانفرنس چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق ، جو ہر جمعہ کو نماز کی ادائیگی سے قبل تاریخی جامع مسجد میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہیں، کو جمعرات کی صبح ہی اپنی رہائش گاہ پر نظربند کردیا گیا ۔ پابندیوں کے نفاذ کے طور پر پائین شہر کی بیشتر سڑکوں کو جمعہ کی صبح ہی سیل کردیا گیا تھا جبکہ ان پر لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی نفری تعینات کی گئی تھی۔ نوہٹہ کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ تاریخی جامع مسجد کے دروازوں کو جمعہ کی صبح ہی مقفل کردیا گیا تھا۔ نوہٹہ کے ایک رہائشی نے یو این آئی کو فون پر بتایا ‘سیکورٹی فورسز لوگوں کو یہ کہتے ہوئے اپنے گھروں میں ہی رہنے کو کہہ رہے تھے کہ علاقہ میں کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا جاچکا ہے ‘۔ مسجد انتظامیہ کمیٹی کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ ہم نے فجر کی نماز جامع مسجد کے اندر ہی ادا کی۔ لیکن فجر نماز ادا کرنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جامع مسجد کو بند کردیا۔

دریں اثنا پابندیوں کے نفاذ کے طور پر نالہ مار روڑ کو ایک بار پھر خانیار سے چھتہ بل تک مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا۔ اس روڑ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے بتایا کہ فجر نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد اس روڑ پر سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے جنہوں نے لوگوں کی آمدورفت محدود کردی۔اس دوران انتظامیہ نے جمعہ کو حریت کانفرنس چیئرمین و متحدہ مجلس علماء جموں وکشمیر کے امیر میرواعظ مولوی عمر فاروق کو رہائش گاہ پر نظر کرکے انہیں وسطی کشمیر کے چرار شریف جانے سے روک دیا۔ حریت کے ترجمان نے کہا ‘میرواعظ کو پروگرام کے مطابق اہلیان چرار شریف کی خصوصی دعوت پر آج چرار شریف جاکر وہاں علمدار کشمیر حضرت شیخ نور الدین نورانی کے آستانہ پر خطاب کرنا تھا لیکن حکومت نے حریت چیئرمین کو نظر بند کرکے ان کی سرگرمیوں پر طاقت کے بل پر قدغن عائد کردی’ ۔ انہوں نے کہا حکومت کا حریت چیئرمین کے تئیں معاندانہ رویہ انتقام کی سیاست ہے ۔ حکومت عوام کے جان و مال اور عزت کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوکر کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق حریت قیادت کو اپنے عتاب کا نشانہ بنا رہی ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT