Friday , November 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / سری رام ساگر پراجکٹ کی سطح آب میں کمی تشویشناک

سری رام ساگر پراجکٹ کی سطح آب میں کمی تشویشناک

نظام آباد :29؍ اکتوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)سری رام ساگر پراجیکٹ سطح آب میں مسلسل کمی کے باعث عوام میں تشویش پائی جارہی ہے۔ سری رام ساگر ایاکٹ کے تحت 9لاکھ سے بھی زائد ایکر ایاکٹ ہے ۔ تلنگانہ کے نظام آباد، عادل آباد، کریم نگر، ورنگل کے اضلاع کو سری رام ساگر پراجیکٹ سے آبی سہولتیں فراہم کی جاتی ہے۔ سری رام ساگر پراجیکٹ گوداوری ندی پر واقع ہے اور گوداوری ندی پر مہاراشٹرا حکومت کی جانب سے غیر مجاز طریقہ سے بابلی پراجیکٹ کے علاوہ دیگر پراجیکٹوں کو تعمیر کرنے کی وجہ سے سری رام ساگر پراجیکٹ کو آنے والے پانی کے بہائو کو روک لگادی گئی اور بابلی پراجیکٹ کے مسئلہ پر عدالت کی جانب سے دئیے گئے احکامات کے مطابق یکم ؍ نومبر سے بابلی پراجیکٹ کے گیٹوں کو بند کردیا جارہا ہے۔ گذشتہ چار ماہ سے بابلی پراجیکٹ کے گیٹ کھلے رہنے کے باوجود بھی ناکافی بارش کی وجہ سے اوپری حصہ سے ایک بوند بھی پانی نہیں آیااور موسم بارش میں سری رام ساگر پراجیکٹ میں صرف 2.15 ٹی ایم سی پانی پہنچا ہے جبکہ مہاراشٹرا میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے پانی کا بہائو نہیں آنے کے علاوہ اوپری حصہ میں گائیکواڈ، وشنوپوری پراجیکٹوں میں بھی پانی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے گیٹوں کو بھی کھولا نہیں گیا اگر بارش ہوتی تو یہ پراجیکٹ لبریز ہونے کی صورت میں یہاں سے پانی چھوڑا جاتا تھا اور معاہدہ کے تحت یکم ؍ جولائی سے بابلی پراجیکٹ کے گیٹوں کو کھول دیا گیااور اس وقت بابلی پراجیکٹ میں نصف ٹی ایم سی پانی تھا اور سری رام ساگر پراجیکٹ میں 0.17 ٹی ایم سی پانی سری رام ساگر پراجیکٹ کو پہنچا ہے۔معاہدہ کے مطابق برسات کے چار ماہ بابلی پراجیکٹ کے گیٹوں کوکھلا رکھا جاتا ہے اور معاہدہ کے مطابق 30؍ اکتوبر کوبند کردیا جاتا ہے اور 30؍ جون تک یہ گیٹ مسلسل بند رہتے ہیں۔ اوپری حصہ سے ایک بوند بھی پانی آنے کی امید نہ ہونے کی وجہ سے عوام میں تشویش پائی جارہی ہے۔ پراجیکٹ کی سطح آب 1052.50 فٹ ہے تو موجودہ ذخیرہ 7.57 ہے اور ڈیڈ اسٹوریج 2ٹی ایم سی ہے اور تلنگانہ کے کاماریڈی، کریم نگر کے مٹ پلی، کورٹلہ، جگتیال، کریم نگر، این ٹی پی سی شہروں کو سری رام ساگر سے ہی پینے کا پانی سربراہ کیا جاتا ہے اور یہ پانی دو ماہ کیلئے کافی ہے۔ اس کے علاوہ زرعی شعبہ کو بھی سری رام ساگر پراجیکٹ کا پانی سربراہ کیا جاتا ہے۔ پراجیکٹ کے ایاکٹ کو تقریباً9لاکھ 50 ہزار ایکر کو پانی سیراب ہوتا ہے ۔ نظام آباد، عادل آباد، کریم نگر، ورنگل کے اضلاع کو پانی سیراب کیا جاتا تھا اور ان اضلاع کو کاکتیہ کنال، سرسوتی کنال ، لکشمی کنال کے ذریعہ پانی سربراہ کیا جاتا تھا۔ پراجیکٹ میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے خریف میں پانی سربراہ نہیں کیا گیا۔ لیکن موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ربیع میں بھی پانی سربراہ کرنا مشکل نظر آرہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT