Wednesday , December 12 2018

سری لنکائی مسلمانوں نے فوج کے تحفظ میں نماز جمعہ ادا کی

DIGANA, MAR 9:- Muslim men pray at a ground after a mosque burned down following a clash between two communities in Digana central district of Kandy, Sri Lanka March 9, 2018. REUTERS-19R

کولمبو ۔ 9 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سری لنکا میں آج نماز جمعہ کے وقت مساجد کے اطراف و اکناف میں سری لنکائی فوج کی طلایہ گردی جاری رہی۔ سنہالا بدھسٹوں اور ملک کی اقلیت مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات کے بارے میں یہ اندیشے پائے جارہے ہیں کہ فسادات پورے ملک میں پھیل سکتے ہیں۔ یاد رہیکہ تین روز قبل کانڈی میں سنہالا بدھسٹوں نے مسلمانوں کی کئی دوکانات، مکانات اور مساجد کو نذرآتش کردیا تھا جسکے بعد حالات اتنے بگڑے کہ ملک کے صدر میتھری پالا سری سینا کو ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کرنا پڑا تھا۔ کانڈی میں صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے 3000 پولیس اہلکار، 2500 فوجی اہلکار اور 250 خصوصی ٹاسک فورسیس کو تعینات کیا گیا ہے۔ نماز جمعہ کے دوران اور بعد میں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا جبکہ تشدد برپا کرنے والے کم و بیش 140 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ مزید افراد کی تلاش بھی جاری ہے۔ پولیس نے کہا کہ کل سے آج تک گڑبڑ زدہ علاقوں میں تشدد کا کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔ حکام نے مشہور سیاحتی ضلع تک انٹرنیٹ کی رسائی کو بند کردیا ہے۔ فیس بک میں بھی خلل پیدا کیا گیا ہے۔ تاہم گڑبڑزدہ علاقوں میں کرفیو برقرار ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد نے جن میں اکثریت تاجرین کی ہے، اپنے کاروبار بند رکھے ۔ بدھسٹ سنہالیوں کے حملہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کاروبار بند رکھا لیکن مسلم پڑوسی علاقوں میں بعض دکانات کھلے رہے۔ فوجی جوان اور پولیس کانسٹیبلس نے کانڈی میں مساجد کے باہر پٹرولنگ تیز کردی جہاں مسلمان نماز جمعہ ادا کررہے تھے۔ کئی مقامات پر مسلمانوں نے کھلے میدانوں میں ہی نماز جمعہ ادا کی کیونکہ بدھسٹوں نے ان کی مساجد کو نذرآتش کیا تھا اور کئی مساجد کو نقصان پہنچایا ہے۔

TOPPOPULARRECENT