Thursday , October 18 2018
Home / Top Stories / سری لنکا: بدھسٹ رہنماؤںکی مخالف مسلم فسادات کی مذمت

سری لنکا: بدھسٹ رہنماؤںکی مخالف مسلم فسادات کی مذمت

کولمبو میں بودھ مذہبی قائدین کی احتجاجی ریالی ، اظہار ِیکجہتی کیلئے مسجدوں کا بھی دورہ

کولمبو۔10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام)سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں بدھسٹ مذہبی رہنماؤں سمیت سینکڑوں کارکنوں نے مسلم مخالف کارروائیوں اور تین افراد کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے احتجاجی ریالی نکالی۔نیشنل بھیکو فرنٹ کا کہنا تھا کہ خاموش مظاہرے کا مقصد تصادم اور مذہبی منافرت کے ذریعے قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی مذمت اور حوصلہ شکنی کرنا ہے۔سری لنکا کے عوام کی اکثریت نے سوشل میڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کیا اور جمعہ کے روز کئی مذہبی رہنماؤں نے اظہار یکجہتی کیلئے مسجدوں کا دورہ کیا۔کولمبو میں ہی ایک روز قبل مقالی سنہالی تنظیموں کے علاوہ مسلم سیول سوسائٹی گروپس نے بھی ان کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔سری لنکا کے شہر کینیڈی میں رواں ہفتے کے آغاز میں اس وقت حالات کشیدہ ہوئے تھے جب ایک ہفتے قبل مقامی شخص کو مبینہ طور پر 4 مسلمانوں نے ایک حملے میں ہلاک کردیا تھا جس کے بعد ایک مسلمان نوجوان کی نعش برآمد ہوئی تھی جن کو جلا دیا گیا تھا۔بعد ازاں بدھ انتہاپسند گینگس نے مساجد کو نذر آتش کرنے کے علاوہ مسلمانوں کے کاروبار کو نقصان پہنچایا تھا اور کینیڈی میں ہی مسلمانوں کے گھروں اور ان کی گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا تھا۔سری لنکا کی حکومت نے حالات کشیدہ ہونے پر کرفیو نافذ کرکے فوج کو طلب کرکے پولیس کی پیٹرولنگ میں اضافہ کردیا تھا۔پولیس کا کہنا تھا کہ حالات کو خراب کرنے کے والے مرکزی ملزموں کے علاوہ دیگر 145 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے ایک شناخت مسلمان مخالف کارکن کے طور پر ہوئی تھی جو سوشل میڈیا میں انتہاپسندانہ پیغامات پوسٹ کرتا تھا۔یاد رہے کہ 2014 میں بھی بدھ انتہاپسندوں کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آئے تھے جہاں 4 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔حالیہ واقعات کے حوالے سے اے ایف پی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سری لنکا کی حکومت کے مطابق سیاحت کیلئے مشہور شہر کینڈی میں پولیس کی جانب سے مسلمانوں اور ان کے گھروں پر حملے روکنے میں ناکامی کے بعد حکومت غیر معمولی اقدامات اٹھا رہی ہے۔سری لنکا کے وزیر اعظم رانِل وِکراماسِنگھے نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ ‘حکومت عوام بالخصوص مسلمانوں کی حفاظت کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT