Tuesday , June 19 2018
Home / کھیل کی خبریں / سری لنکا میں سٹے بازوں کیخلاف کارروائی ، عدم قانون کے سبب ملزمین رہا

سری لنکا میں سٹے بازوں کیخلاف کارروائی ، عدم قانون کے سبب ملزمین رہا

کولمبو، 6 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سری لنکا کے انسدادِ بدعنوانی یونٹ نے گزشتہ ہفتے کولمبو میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوسرے ٹسٹ کرکٹ میچ کے دوران پی سارا اوول میں پاکستان اور ہندوستان کے سٹے بازوں کے خلاف مہم چلائی۔ تاہم سری لنکا میں اس حوالے سے کوئی قانون موجود نہ ہونے کی وجہ سے ملزمان کو چھوڑ دیا گیا۔ انسداد بد عنوانی یونٹ کے سربراہ ریٹائرڈ سینیئر پولیس سپرنٹنڈنٹ لکشمن دی سلوا نے بتایا کہ 2 پاکستانیوں اور 3 ہندوستانیوں سے پوچھ گچھ کی گئی جو انڈیا اور پاکستان کے سٹے بازوں تک اُس وقت میچ کمنٹریز پہنچا رہے تھے، جب پاکستان اور سری لنکا کے مابین دوسرا ٹسٹ جاری تھا۔ نیشنل انٹلیجنس بیورو کے سابق ڈائریکٹر ڈی سلوا نے ’سنڈے ٹائمز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ہم میچ کے دوران گشت پرتھے کہ ہم نے 3 ہندوستانی افراد کو خفیہ طور پر موبائل فون کے ذریعے کمنٹری کرتے ہوئے نوٹس کیا، بعدازاں 2 پاکستانی بھی موبائل فون کے ذریعے کمنٹری کرتے ہوئے پکڑے گئے‘‘۔ انھوں نے بتایا کہ ’’جب ان سے تفتیش کی گئی تو ہمیں معلوم ہوا کہ یہ کمنٹریز شرط لگانے کیلئے براہ راست انڈیا اور پاکستان میں موجود سٹے بازوں کو پہنچائی جارہی تھیں، ہم نے اس حوالے سے بھی پتہ چلانے کی کوشش کی کہ ان کے ساتھ کوئی مقامی ایجنٹ، کرکٹ آفیشل یا کوئی کھلاڑی تو ملوث نہیں ہے‘‘۔ ڈی سلوا نے وضاحت کی کہ ’’وہ یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ ان افراد کا کسی مقامی شخص سے تو رابطہ نہیں اور اگر ہے تو وہ کون ہے، تاہم ہمیں ایسی کوئی معلومات حاصل نہیں ہوئیں‘‘۔ انھوں نے کہا کہ سری لنکا میں شرطیں لگانا غیر قانونی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ملک میں قوانین بہت کمزور ہیں، ہم نے ٹکٹس پر اس حوالے سے ایک شق پرنٹ کروا رکھی ہے، جس میں گراؤنڈ میں شرط لگانے پر پابندی کی اطلاع دی گئی ہے،لہذا ہم صرف یہی کر سکتے ہیں کہ ان افراد کی ذاتی معلومات حاصل کریں، انھیں گراؤنڈ سے بیدخل کردیں اور باقی سیریز کے دوران ان کے گراؤنڈ میں داخلے پر پابندی لگا دی جائے۔ سری لنکا کے انسدادِ بد عنوانی یونٹ کے سربراہ نے کہا کہ انھیں شرطیں لگانے کے ایک آپریشن سے متعلق بھی علم ہوا ہے جہاں مقامی کرکٹرز کے نام گھوڑوں اور کتوں کی ریسوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ ڈی سلوا نے کہا کہ ’’ہم اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان افراد اور گروپوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کیلئے تیار ہیں جو کھلاڑیوں اور آفیشلز کو اپنی سرگرمیوں میں ملوث کرتے ہیں‘‘۔ واضح رہے کہ سری لنکا کا انسدادِ بدعنوانی یونٹ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے انسدادِ بدعنوانی یونٹ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT