سری لنکا میں فرقہ وارانہ فسادات ‘ فوج چوکس

کولمبو ۔ 19نومبر ( سیاست ڈاٹ کام) سری لنکا کی فوج نے آج ساحلی قصبہ میں طلایہ گردی کی جہاں تقریباً 90 مکانوں کو نقصان پہنچایا گیا اورکاروں کو نذرآتش کردیا گیا جب کہ اس علاقہ میں سنہالی اور مسلم طبقوں میں کشیدگی پھیل گئی ۔ گنٹوٹا میں ایک ٹریفک حادثہ پر زبانی تکرار کے بعد جو دارالحکومت کولمبو کے جنوب میں 110کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے ۔ ہزاروں افراد یہاں پہنچ گئے اور اکثریتی طبقہ سنہالیوں اور اقلیتی طبقہ مسلمانوں کے درمیان تصادم کا آغاز ہوگیا ۔ فوج اور بحریہ کو مقامی پولیس کی مدد سے صورتحال پر قابو پانے کیلئے ہفتہ کے دن سے تعینات کردیا گیا ۔ جھڑپوں کی وجہ سے کم از کم پانچ افراد شدید زخمی ہوگئے اور دواخانہ میں شریک ہیں ۔ تقریباً 90 عمارتوں کو فسادات کے دوران نقصان پہنچایا گیا ۔ قصبہ میں صورتحال ہنوز کشیدہ ہے اور کل شام سے پورا قصبہ بند ہے ۔آج علی الصبح سابق دنوں میں عائد کردہ کرفیو اٹھا لیا گیا تھا ۔ وزیر داخلہ سری لنکا وجیرا آہے وردنا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ نقصانات اور مہلوکین کے بارے میں مکمل رپورٹ طلب کی گئی ہے ۔ مہلوکین کے ورثاء کو حکومت کی جاب سے معاوضہ ادا کیا جائے گا ۔ فوج اور پولیس نظم و قانون کی صورتحال معمول پر بحال ہونے تک اس علاقہ میں تعینات رہے گی ۔ سری لنکا دو کروڑ 10لاکھ کی آبادی میں مسلمان کم از کم 10فیصد ہیں ۔ دوسرا سب سے بڑا اقلیتی گروپ ٹاملوں کا ہے ۔ سنہالی جو زیادہ تر بت مت کے پیرو نسلی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں آبادی کا 70فیصد حصہ ہے ۔ پولیس کے بموجب 19 افراد کو فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلہ میں گرفتار کرلیا گیا ہے اور مزید مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے ۔ جون 2014ء میں بھی بت مت کے پیروؤں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے جس سے 4ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوگئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT