Tuesday , April 24 2018
Home / Top Stories / سری لنکا میں مخالف مسلم فسادات کے بعد لگائی گئی قومی سطح کی ایمرجنسی ختم

سری لنکا میں مخالف مسلم فسادات کے بعد لگائی گئی قومی سطح کی ایمرجنسی ختم

کولمبو۔صدر سری لنکا نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ بارہ دن قبل لگائی گئی قومی سطح کی ایمرجنسی ہٹارہے ہیں‘ ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل مخالف مسلم فسادات میں تین لوگ مارے گئے ‘ جبکہ سینکڑوں دوکانات بھی تباہ کردئے گئے تھے۔ایمرجنسی کے دور ان فوج کو اس با ت کا اختیار تھا کہ وہ مشتبہ لوگوں کو کسی بھی وقت او رصورتحال میں اپنے تحویل میں لے سکتے ہیں ‘ میتھری پالا سرسینا نے سکیورٹی حالات کہ پیش نظر اب ایمرجنسی ہٹانے کا اعلان کیاہے۔

جاپان دورے سے لوٹنے کے ساتھ ہی سرسینا نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ کے ذریعہ کہاکہ ’’ عوامی مفادات کے پیش نظر میں نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ کل نصف شب کے بعد سے ایمرجنسی برخواست کردی جائے‘‘۔ درالحکومت کولمبو سے 115کیلومیٹر کے فاصلہ پر واقع مرکزی ضلع کینڈے میں مخالف مسلم فسادات پھوٹ پڑے تھے ۔ پولیس کا کہنا ہے حالات قابو میں ہے اور عام زندگی بحال ہوگئی ہے ۔

سکیورٹی فورسس کو تباہ مکانات او ردوکانات کی تعمیرپر مامور کردیاگیا ہے۔مذکورہ فسادات کے ضمن میں تین سو سے زائد لوگوں کو گرفتار کیاگیا ہے اور اس ماہ کی آخر تک وہ پولیس کی تحویل میں رہیں گے۔کینڈے شہر کے مختلف قصبوں میں فسادات پھیلنے والے فساد کو روکنے میں پولیس کی ناکامی کے بعد سرسینا نے اسٹیٹ ایمرجنسی کااعلان کرتے ہوئے فوج طلب کرلی تھی۔

اس کے بعد کچھ منظم سازش کے تحت انجام دینے والے واقعات بھی جزیرہ نما سری لنکا کے شہر میں رونما ہوئے۔ایک ماہ قبل کشیدگی اس وقت بڑھ گئے جب ایک سڑک حادثے میں ہلاک ہونے والے نوجوان کی موت پر سنہالیسیو ں نے چار مسلمانوں کو بے رحمی کے ساتھ زدکوب کیاتھا ۔ اسی روز سنہالیسی ہجوم نے مسلمانو ں کے ذاتی دوکانات او رمکانات کو بھی نذر آتش کردیاتھا۔

ایک چوبیس سالہ مسلم نوجوانوں کی نعش جلتے گھر سے نکالنے کے بعد کشیدگی میں مزیداضافہ ہوا تھا۔ اگلے روز ایک سنہالیسی ہجوم میں شامل شخص کی موت اس وقت ہوئی جب اس کے ہاتھ میں رکھا ہوا ہیڈگرانائیڈ مسجد پر حملہ کی غرض سے پھینکنے سے قبل ہی ہاتھ میں پھٹ گیاتھا۔ سال2009میں تامل علیحدگی پسندوں سے جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب سری لنکا میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی۔

سری لنکا پارلیمنٹ نے فسادات کے بعد مسلم اقلیت سے معافی بھی مانگی تھی ‘ ملک میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب دس فیصد ہے ۔ جبکہ تین تہائی آبادی سنہالیسی کی ہے۔پچھلے سال نومبر میں مسلمانوں اور سنہالیسی بدھسٹوں کے درمیان میں فسادات رونما ہوئے تھے

TOPPOPULARRECENT