Wednesday , August 22 2018
Home / اداریہ / سری لنکا میں مسلمانوں پر بدھسٹوں کے حملے

سری لنکا میں مسلمانوں پر بدھسٹوں کے حملے

ہر اک گھر میں تباہی مچ گئی ہے
تمہارا بھی مکاں اب کے جَلا کیا ؟

سری لنکا میں مسلمانوں پر بدھسٹوں کے حملے
انگریزی میڈیا کے ایک تعصب پسند ریڈر نے سری لنکا میں بدھسٹوں کی جانب سے مسلمانوں پر ہونے والے حملوں پر نا سمجھی کا تبصرہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ مسلمانوں کے ساتھ بدھسٹ لڑ رہے ہیں ، مسلمانوں کے ساتھ ہندو متصادم ہیں ، مسلمانوں کے ساتھ یہودی جنگ کررہے ہیں ۔ شیعہ اور سنی جھگڑے چل رہے ہیں کیا اسلام ایک پرامن مذہب ہے ۔ اس کا جواب اس سوال میں پوشیدہ ہے کہ اگر اسلام امن پسند مذہب نہیں ہوتا تو پھر ان مذکورہ مذاہب کے ماننے والوں کی آج کیفیت مختلف ہوتی ۔ اسلام کی امن پسندی نے ہی بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کی وسیع دنیا قائم رکھی ہے ۔ سری لنکا میں بدھسٹوں کا زور بڑھتا جارہا ہے یہاں مسلمانوں کی اقلیتی آبادی کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ۔ پڑوسی ملک مانیمار میں بدھسٹوں نے تشدد اور حکومت کی مجرمانہ سازشوں کی وجہ سے مانیمار کے مسلمان نشانہ بن چکے ہیں ۔ اس کا اعادہ اگر سری لنکا میں کرنے کی کوشش ہورہی ہے تو یہ مقامی حکومت کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان لگے گا ۔ سری لنکا کی حکومت اپنے ملک میں مانیمار کے واقعات کے احیاء کی ہرگز اجازت نہ دے ۔ تشدد پھیلانے والے یہ وہ لوگ ہیں جو مانیمار بدھسٹ سے وابستہ ہیں ۔ ان لوگوں کو سری لنکا میں مسلم روہنگیا کے پناہ لینے پر اعتراض ہے ۔ سری لنکا میں حال ہی میں کئی مسلم روہنگیائی باشندوں نے سیاسی پناہ مانگی تھی ۔ سری لنکا حکومت نے حالیہ تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کئے ہیں اور 10 روزہ ایمرجنسی کا بھی اعلان کیا ہے ۔ گدشتہ سال بھی یہاں دونوں طبقات کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی ۔ مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کی خبروں کو آج کا متعصب میڈیا بھی سنسر کر کے پیش کرتا ہے جب کہ سری لنکا میں مسلمانوں کے جان و مال کو شدید نقصانات پہونچائے جارہے ہیں ۔ سوشیل میڈیا اب سماجی لعنت بنتا جارہا ہے ۔ دو فرقوں میں نفرت پیدا کرنے کے لیے فرقہ پرست عناصر سوشیل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں ۔ فیس بک کے پیامات کے ذریعہ ہی ایک طبقہ کو دوسرے طبقہ کے خلاف اکسایا جارہا ہے تو حکومت اور اس علاقہ کی پولیس و انٹلی جنس کو فوری حرکت میں آنا چاہیے ۔ لیکن پولیس اس وقت بیدار ہوتی ہے جب فسادات رونما ہوتے ہیں ۔ سری لنکا میں بھی پولیس کا رول اس وقت سامنے آیا جب بدھسٹوں نے مسلمانوں کے مکانات ، دوکانات اور املاک کو نشانہ بنایا انہیں آگ لگادی ۔ اکثریتی نیہالی بدھسٹوں نے ہمیشہ ہی مسلمانوں سے نفرت کو بھڑکایا گیا ہے ۔ گذشتہ روز بھی بدھسٹوں نے نفرت انگیز کارروائیوں میں اقلیتی طبقہ کے ارکان کو بری طرح نقصان پہونچایا اگرچیکہ وزیراعظم رانیل وکرما سنگھے نے صورتحال پر قابو پانے میں ناکام پولیس کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بدھسٹوں میں نفرت کو دور کرنے کی کوشش ہونی چاہئے ۔ گذشتہ سال نومبر میں بھی بدھسٹوں نے مسلمانوں کو اپنی فرقہ پرستانہ کارروائیوں کے ذریعہ نشانہ بنایا تھا ۔ مگر اس وقت پولیس اور نظم و نسق کی عدم کارروائی سے بدھسٹ فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند ہوئے ۔ نومبر میں فرقہ وارانہ فسادات میں ایک ہلاک ہوا تھا اور کئی مکانات اور موٹر گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا ۔ جون 2014 میں بھی بدھسٹوں اور مسلمانوں کے درمیان فسادات میں چار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے ۔ بدھسٹوں نے فرقہ پرست قائدین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ چلائے جارہے ہیں لیکن یہ لوگ اپنا انتہا پسندانہ کارروائیوں میں کوئی کمی نہیں لائے ۔ یہ حکومت سری لنکا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے سخت قدم اٹھائے جیسا کہ سابق صدر مہندر راج پکسے نے تشدد کو روکنے میں حکومت کی ناکامی پر تنقید کی ہے ۔ دو فرقوں کے درمیان تصادم کی نوبت نہ آنے دینے کے لیے نظم و نسق کو سخت اقدامات کرنے پڑتے ہیں لیکن نظم و نسق کی عدم کارکردگی کے بھیانک جانی و مالی نقصانات ہوتے ہیں ۔ ایک مہذب معاشرے میں اگر کسی سازشی ٹولے کو کھلا چھوڑ دیا جائے تو وہ بے قابو بن جاتا ہے ۔ سری لنکا میں مسلم اقلیت کے ساتھ ہمیشہ ظلم و زیادتیاں ہوتی آرہی ہیں ۔ اس مرتبہ سری لنکا کے ضلع کینڈے میں بدھسٹوں نے مسلمانوں کے گھروں کو نذر آتش کردیا ۔ دوکانات اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا ۔ سری لنکا کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد صرف 10 فیصد ہے ۔ فسادات اس وقت بھڑکائے جاتے ہیں جب پولیس خاموش تماشائی بن جاتی ہے بلکہ فسادات کے لیے ذمہ دار افراد کی پشت پناہی سے بھی حالات بگڑ جاتے ہیں ۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد معمول کا عمل بنادیا گیا ہے ۔ کرفیو اور پولیس کی موجودگی کے باوجود اگر مسلمانوں پر حملے ہوتے ہیں تو سری لنکا کی آبادی میں 75 فیصد غلبہ رکھنے والے افراد تشدد کی انتہا کو پہونچ سکتے ہیں ۔ لہذا پولیس اور حکومت کو اس نازک صورتحال پر خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہئے اور نہ ہی یکطرفہ کارروائیاں ہونی چاہئے ۔ خاطیوں کے خلاف سخت سے سخت قدم اٹھاکر جزیرہ سری لنکا میں امن کی برقراری کو یقینی بنایا جانے کی ضرورت ہے ۔ سری لنکا میں ان دنوں یہ تاثر شدت اختیار کرتا جارہا ہے کہ یہاں وہابی اسلام نے غلبہ پاکر صوفی اسلام کو ختم کردیا ہے جب کہ صوفی اسلام نے برسوں سے دیگر مذاہب کے طبقات کے ساتھ مسلمانوں کے درمیان ثقافتی روایتی تعلقات کو فروغ دیا تھا اب اس خیال کو ہوا دی جارہی ہے جب سے سری لنکا میں سعودی عرب سے آنے والی رقم سے مساجد تعمیر ہونے لگی ہیں یہاں وہابی اسلام نے دیگر مذاہب کے لوگوں سے اسلام کے روایتی ، ثقافتی تعلقات توڑنے شروع کئے ہیں لہذا حکومت اور نظم و نسق و لااینڈ آرڈر کے ذمہ داروں کو اسلام کے تعلق سے پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT