Tuesday , October 16 2018
Home / Top Stories / سری لنکا میں مسلمانوں پر حملے اور تشدد جاری

سری لنکا میں مسلمانوں پر حملے اور تشدد جاری

کانڈی میں گڑبڑ کے بعد غیرمعینہ مدت کا کرفیو نافذ
افواہوں کو روکنے کیلئے انٹرنیٹ خدمات اور فیس بک مسدود کردی گئی

کولمبو ۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سری لنکا کے فساد زدہ ضلع کانڈی میں اکثریتی سنہالا بدھسٹوں اور اقلیتی مسلمانوں کے درمیان تصادم اور تشدد کو مزید علاقوں تک پھیلنے سے روکنے کے لئے فوری اثر کے ساتھ غیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ کردیا گیا۔ وسطی پہاڑی ضلع کے علاقہ تھلڈینا میں بدھسٹوں کے پرتشدد حملوں میں دو مسلمانوں کی ہلاکت درجنوں مساجد، گھروں اور دوکانات کو نذرآتش کئے جانے کے بعد گذشتہ روز کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ سرکاری ترجمان رجیتا سینا رتنے نے کہا کہ تشدد کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے کرفیو کی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہا کہ مسلم کش فسادات پر کنٹرول کے لئے گذشتہ روز ایمرجنسی کے نفاذ کے اندرون چند گھنٹے کرفیو زدہ علاقوں میں اشرار کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس چھوڑی تھی۔ پرتشدد واقعات کے بعد صدر مائیتری پالا سری سینا نے مزید تشدد کو روکنے کیلئے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے پولیس اور فوج کو تعینات کردیا تھا۔ اس علاقہ میں آج صبح کرفیو میں نرمی دی گئی تھی جس کے ساتھ ہی سنہالی بدھسٹوں نے مسلمانوں پر حملوں کا آغاز کردیا۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کے گھروں، دوکانوں اور مسجدوں کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا جس کے فوری بعد غیرمعینہ مدت کا کرفیو نافذ کردیا گیا۔ اس دوران امریکہ، برطانیہ اور دیگر کی ممالک کی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہیکہ وہ اس جزیرہ نما ملک کے سفر کے ضمن میں محتاط رہیں۔ اقوام متحدہ کے انڈر سکریٹری جنرل برائے سیاسی امور جیفری شلٹمین جمعہ کو سری لنکا کے تین روزہ دورہ کا آغاز کریں گے۔ حکومت سری لنکا نے ضلع کانڈی میں غلط اطلاعات اور افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کیلئے انٹرنیٹ رسائی کو محدود کردیا ہے اور سوشیل میڈیا سائٹ فیس بک کو مسدود کردیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں دیگر مقامات پر گڑبڑ و بے چینی پر کنٹرول کیلئے مزید پولیس اور فوج تعینات کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT