Monday , June 25 2018
Home / Top Stories / سری لنکا کے تشدد زدہ علاقہ کینڈی میں تازہ فرقہ وارانہ فساد، 81 مشتبہ افراد گرفتار

سری لنکا کے تشدد زدہ علاقہ کینڈی میں تازہ فرقہ وارانہ فساد، 81 مشتبہ افراد گرفتار

ایمرجنسی کے نفاذ اور فوج کی تعیناتی کے باوجود مسلمانوں پرسنہالی بدھسٹوں کے حملے جاری ، مکانات اور دوکانات تباہ

کولمبو ۔ /8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سری لنکا کے پہاڑی وسط ضلع کینڈی میں مسلم ہمسایہ علاقوں میں تازہ فرقہ وارانہ فساد بھڑک اٹھا ہے ۔ اکثریتی سنہالی بدھسٹوں نے مسلمانوں کے مکانات اور دوکانات کو تباہ کردیا ۔ ایک ایسے دن جب صدر سری لنکا مائتھری پلا سریسینا نے لا اینڈ آرڈر کا قلمدان وزیراعظم رانیل وکرما سنگھے سے نکال لیا ہے اسی دن علاقے میں شدید تشدد بھڑک اٹھا ۔ اکثریتی سنہالی بدھسٹوں نے جزیرے بحر ہند کے اس ملک میں اقلیتی مسلمانوں کو چن چن کر نشانہ بنانا شروع کیا ہے ۔ ملک بھر میں ایمرجنسی کے نفاذ اور فساد زدہ ضلع کینڈی میں فوج کی تعیناتی کے باوجود یہاں فسادات بھڑک اٹھے ہیں ۔ فرقہ وارانہ فسادات پر قابو پانے کیلئے حکومت نے ایمرجنسی نافذ کی ہے ۔ گزشتہ پیر کے دن سے یہاں مسلم دشمن فسادات ہورہے ہیں ۔ فسادیوں نے مسلمانوں کے کئی مکانات ، دوکانات اور مساجد کو نقصان پہونچایا ہے ۔ یہ تشدد گزشتہ ہفتہ اکثریتی سنہالی بدھسٹوں کے اصل گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی موت کے بعد بھڑک اٹھا ہے ۔ حکومت نے 7 سال کے بعد یہاں ایمرجنسی نافذ کی ہے ۔ ملک بھر میں فسادات کو روکنے کیلئے حکومت نے کئی احتیاطی اقدامات کا اعلان کیا ۔ خاص کر انٹرنیٹ بلاک آؤٹ کردیا گیا ۔ فیس بک کے بشمول سوشیل میڈیا ویب سائیٹس کو بند کردیا گیا ۔ واٹس اپ پیامات کو بھی روک دیا گیا ہے ۔ پولیس نے سنہالی فسادیوں کے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا ۔ یہ ہجوم سوشیل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے مسلم علاقوں میں تشدد برپا کرتے ہوئے ان کے دوکانات اور مکانات کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک مسجد پر پٹرول بم بھی برسائے گئے ۔ جبکہ اس علاقے میں مصلح فوجی گاڑیاں اور بھاری اسلحہ سے لیس فوج نے مورچہ سنبھالا ہے ۔ گزشتہ روز مسلم دشمن فسادات کے دوران دو افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ اصل مشتبہ افراد کے بشمول 81 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جو مسلمانوں پر حملے کرنے کیلئے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں ۔ ایک شخص وداناپتھیر رنجے امیت جیون ویرسنگھے کو دیگر 9 افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا ۔ یہ لوگ فساد بھڑکانے میں آگے آگے تھے ۔ پولیس ترجمان راون گونیسیکر نے کہا کہ انہیں انسداد دہشت گردی تحقیقاتی ڈیویژن کی جانب سے گرفتار کیا گیا ہے ۔ /4 مارچ سے یہاں پر فساد بھڑکا ہوا ہے ۔ دونوں جانب تصادم کے باعث دو افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ اس مدت کے دوران مسلمانوں کی املاک کے خلاف 45 حملوں کے واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں ۔ جبکہ 4 مساجد کو تباہ کردیا گیا ۔ مشتبہ افراد کی گرفتاری کا عمل اس وقت شروع ہوا جب پولیس پر شدید تنقیدیں ہونے لگی اور کہا جانے لگا کہ پولیس فساد کو روکنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے ۔ قبل ازیں صدر سریسینا نے وزیراعظم کے پاس سے لا اینڈ آرڈر کا قلمدان چھین لیا اور تشدد کو روکنے کیلئے خود حالات کا جائزہ لینے لگے ۔ انہوں نے کل رات پولیس کو ہدایت دی کہ صورتحال پر قابو پانے کیلئے زیادہ سے زیادہ فورس تعینات کیا جائے ۔ اسی دوران اقوام متحدہ نے مسلمانوں کے خلاف فسادات کی مذمت کی اور کولمبو پر زور دیا کہ وہ اس علاقے میں حالات کو معمول پر لانے کیلئے فوری سخت اقدامات کریں ۔

TOPPOPULARRECENT