سری لنکا کے خلاف آج انگلینڈ کو کامیابی ضروری

چٹگانگ۔ 26 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سابق چمپین انگلینڈ کی آئی سی سی ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ 2014ء کی مہم کا ناکام آغاز ہوا کیونکہ اسے افتتاحی مقابلے میں نیوزی لینڈ کے خلاف بارش سے متاثرہ مقابلے میں شکست برداشت کرنی پڑی تھی لہذا کل کھیلے جانے والے مقابلے میں اسٹیورٹ براڈ کی زیرقیادت انگلش ٹیم کو سری لنکا کے خلاف کامیابی ضروری ہے، حالانکہ انگلینڈ ن

چٹگانگ۔ 26 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سابق چمپین انگلینڈ کی آئی سی سی ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ 2014ء کی مہم کا ناکام آغاز ہوا کیونکہ اسے افتتاحی مقابلے میں نیوزی لینڈ کے خلاف بارش سے متاثرہ مقابلے میں شکست برداشت کرنی پڑی تھی لہذا کل کھیلے جانے والے مقابلے میں اسٹیورٹ براڈ کی زیرقیادت انگلش ٹیم کو سری لنکا کے خلاف کامیابی ضروری ہے، حالانکہ انگلینڈ نے اپنے پہلے مقابلے میں نیوزی لینڈ کے خلاف بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 172/6 رنز اسکور کئے تھے

لیکن ڈک ورتھ لوئس نظام کے تحت اسے 9 رنز کی شکست برداشت کرنی پڑی۔ دریں اثناء انگلش ٹیم کے کھلاڑی امپائرس کے اس فیصلے سے بھی ناراض ہیں کیونکہ ہفتہ کو نیوزی لینڈ کے خلاف منعقدہ مقابلے کی دوسری اننگز کے پانچویں اوور میں ہی بارش اور بجلی کڑکنی شروع ہوگئی تھی اس کے باوجود امپائروں نے کھیل کو جاری رکھا۔ مقابلے کے بعد براڈ نے امپائروں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس پر آئی سی سی نے کارروائی کرتے ہوئے ان پر 15 فیصد جرمانہ عائد کیا تھا۔ یہ تمام حالات ماضی کا حصہ بن چکے ہیں اور انگلینڈ ان مایوس کن نتائج کو پس پشت ڈالتے ہوئے ٹیموں کے جدول میں پہلے مقام پر فائز سری لنکا کے خلاف اپنی حکمت عملی پر تمام تر توجہ کر چکی ہے۔ دوسری جانب دنیش چنڈیمل کی زیرقیادت سری لنکائی ٹیم نے جنوبی افریقہ اور نیدرلینڈز کے خلاف آسان فتوحات حاصل کرتے ہوئے سیمی فائنل میں رسائی کے امکانات کو مستحکم کرلیا ہے

اور وہ کل انگلینڈ کے خلاف ناقابل تسخیر موقف کو برقرار رکھتے ہوئے سیمی فائنل میں رسائی کے امکانات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے کوشاں ہوگی۔ انگلینڈ کے لئے موسم گرما کا سیزن مایوس کن نتائج پر مشتمل ہے کیونکہ اسے آسٹریلیا کے خلاف ایشیس سیریز میں ایک بھی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ انگلینڈ کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ اس کے مڈل آرڈر نے گزشتہ کے مقابلے میں بہترین مقابلہ کیا ہے۔ دریں اثناء معین علی اور مائیکل لمب نے 72 رنز کی پارٹنرشپ نبھاتے ہوئے ٹیم کو مستحکم شروعات فراہم کی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جوس بٹلر اور روی بوپرا نے تیز رفتار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کے مجموعی اسکور 172/6 میں کلیدی رول ادا کیا ہے۔ انگلینڈ کیلئے بولنگ شعبہ کے مظاہرے تشویش کے باعث ہیں،

کیونکہ انہیں نیوزی لینڈ کے خلاف مکمل 20 اوورس بولنگ کرنے کا موقع نہیں ملا ہے۔ سری لنکا کے لئے بولنگ شعبہ میں کسی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے کیونکہ آل راؤنڈر انجیلو میتھیوز اور اسپنر اجنتا منڈیس نے فی کس 4 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں جبکہ لستھ ملنگا نے بھی ٹورنمنٹ میں تاحال 3 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ سری لنکائی بولروں نے پہلے جنوبی افریقہ کے خلاف 165 رنز کا کامیاب دفاع کیا جس کے بعد دوسرے مقابلے میں نیدرلینڈز کو محض 39 رنز پر ڈھیر کردیا۔ انگلش بیٹسمنوں کیلئے سری لنکائی بولروں کیخلاف سخت امتحان ہوسکتا ہے چونکہ اس کے فاسٹ بولر لستھ ملنگا خصوصاً ان دنوں کافی بہترین فام میں موجود ہیں جنہوں نے ایشیا کپ اور ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ کے ابتدائی دو مقابلوں میں ٹیم کی فتوحات میں کلیدی رول ادا کیا ہے اور دیگر بولروں کا بھی انہیں بہترین تعاون مل رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT