Wednesday , August 15 2018
Home / Top Stories / سری نگر میں دوسرے دن بھی کرفیو جیسی پابندیاں

سری نگر میں دوسرے دن بھی کرفیو جیسی پابندیاں

SRINAGAR, MAY 20 (UNI) A security personnel not allowing motorcyclists towards curfew bound area at Gojwara in down town Srinagar during curfew like restrictions on Sunday. UNI PHOTO-20U

سری نگر ، 20 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر انتظامیہ نے سری نگر کے پائین شہر میں کرفیو جیسی پابندیوں کا اطلاق اتوار کو مسلسل دوسرے دن بھی جاری رکھا۔ پابندیوں ظاہری طور پر حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کی قیادت والے جموں وکشمیر عوامی مجلس عمل کی طرف سے مرحوم میر واعظ مولوی محمد فاروق اور مرحوم عبدالغنی لون کی برسیوں کے سلسلے میں تنظیم کے مرکزی دفتر میرواعظ منزل راجوری کدل سے اتوار کو نکالی جانے والی ریلی کو ناکام بنانے کے لئے جاری رکھی گئیں۔چونکہ وادی میں پیر کو مرحوم میرواعظ اور مرحوم لون کی برسیاں منائی جارہی ہیں، اس لئے قوی امکان ہے کہ پابندیوں کو کل مسلسل تیسرے دن بھی جاری رکھا جائے گا۔کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے میرواعظ مرحوم ، مرحوم عبدالغنی لون اور شہدائے حول کی برسی کی مناسبت سے 21مئی کو مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کرنے کی اپیل کر رکھی ہے ، جبکہ اس روز جملہ شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لیے عیدگاہ سری نگر میں ایک عظیم عوامی جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔مرحوم میرواعظ مولوی محمد فاروق کو 21 مئی 1990 ء کو نامعلوم بندوق برداروں نے اُن کی رہائش گاہ پر ہلاک کیا تھاجبکہ مرحوم عبدالغنی لون کو 2002 ء میں اُس وقت نامعلوم بندوق برداروں نے ہلاک کیا تھا جب وہ میرواعظ کی 12 ویں برسی کے موقع پر عیدگاہ سری نگر میں منعقدہ اجتماعی فاتحہ خوانی کی تقریب میں شرکت کرنے کے بعد گھر لوٹ رہے تھے ۔ مرحوم مولوی محمد فاروق حریت کانفرنس (ع) کے موجودہ چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کے والد ہیں جبکہ مرحوم عبدالغنی لون ریاستی وزیر سجاد غنی لون اور علیحدگی پسند لیڈر بلال غنی لون کے والد ہیں۔ 21 مئی 1990 ء کو میرواعظ مولوی محمد فاروق کی ہلاکت کے بعد 50 سے زائد سوگوار اُس وقت جاں بحق ہوئے تھے جب سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے مبینہ طور پر گوجوارہ کے مقام پر میرواعظ کے جلوس جنازہ میں شامل لوگوں پر گولیاں برسائیں تھیں۔ مرحوم میرواعظ مولوی محمد فاروق کو وادی کشمیر میں ‘شہید ملت’ جبکہ مرحوم عبدالغنی لون کو ‘شہید حریت’ کے القاب سے جانا جاتا ہے ۔ اس دوران میرواعظ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ علیحدگی پسند قیادت کو مسلسل تھانہ یا خانہ نظربند رکھا گیا ہے ۔جبکہ پائین شہر میں پابندیوں کا اطلاق جاری رکھا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT