Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں، جامع مسجد میں نماز جمعہ نہ ہوسکی

سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں، جامع مسجد میں نماز جمعہ نہ ہوسکی

سری نگر 11مئی (سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر انتظامیہ نے جمعہ کے روز سری نگر کے پائین شہر میں سخت ترین پابندیاں نافذ کرکے نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔خیال رہے کہ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے وادی میں حالیہ جنگجوؤں اور عام نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف 11 مئی جمعتہ المبارک کو نماز جمعہ کے موقع پر احتجاج کرنے اور جاں بحق ہوئے نوجوانوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔انہوں نے گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا ‘ہم تمام ائمہ مساجد اور خطیبوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ 11 مئی جمعتہ المبارک کو نماز جمعہ کے موقع پر مساجد ، خانقاہوں، آستانوں اور امام باڑوں میں گذشتہ دنوں جاں بحق ہوئے نوجوانوں کی غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام کریں اور پر امن احتجاج کے ساتھ ساتھ اس موقع پر متحدہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے مرتب کردہ قرارداد پیش کرکے عوام سے تائید حاصل کریں’ ۔تاہم کشمیر انتظامیہ نے احتجاج کے دوران پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں جمعہ کی صبح ہی سخت ترین پابندیاں نافذ کیں۔حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق ، جو ہر جمعہ کو نماز کی ادائیگی سے قبل تاریخی جامع مسجد میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہیں، کو جمعرات کی صبح ہی اپنی رہائش گاہ پر نظربند کردیا گیا ۔بزرگ علیحدگی پسند راہنما مسٹر گیلانی کو بھی اپنی رہائش گاہ میں بدستور نظربند رکھا گیا ہے ۔ جبکہ جے کے ایل ایف چیئرمین یاسین ملک کو مقامی پولیس تھانہ میں مقید رکھا گیا ہے ۔اس دوران میرواعظ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ‘مرکزی جامع مسجد ایک بار پھر مقفل،نماز کی ادائیگی پر پابندی، نظربندی ، قدغنیں اور بندشوں کا اطلاق جاری۔آج سانحہ شوپیاں کے شہداء کا غائبانہ نماز جنازہ اور اہلیان شوپیاں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا پروگرام تھا، بزور طاقت دبانے کا عمل ہمارے جذبوں اور عزم کو اتنی ہی شدت کے ساتھ ابھارے گا’۔ پابندیوں کے نفاذ کے طور پر پائین شہر کی بیشتر سڑکوں کو جمعہ کی صبح ہی سیل کردیا گیا تھا جبکہ ان پر لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کے لئے بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی نفری تعینات کی گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT