Monday , May 28 2018
Home / ہندوستان / سر ینگر میں احتجاجوں کے اندیشے پر پابندیاں ، ریل خدمات معطل

سر ینگر میں احتجاجوں کے اندیشے پر پابندیاں ، ریل خدمات معطل

سرینگر۔ 18 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر انتظامیہ نے ہفتہ کے روز سرینگر کے آٹھ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندیاں عائد کردیں۔ یہ پابندیاں شہر کے زکورہ میں گذشتہ سہ پہر کو جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان پیش آئے انکاؤنٹر میں ایک مقامی جنگجو اور پولیس سب انسپکٹر کی ہلاکت کے تناظر میں عائد کی گئی ہیں۔انتظامیہ کو خدشہ تھا کہ شہر میں جنگجو کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوسکتے ہیں۔ شہر میں کرفیو جیسی پابندیوں کے اطلاق کے علاوہ پوری وادی میں ریل خدمات احتیاطی طور پر معطل کردی گئی ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ سرینگر کے احکامات پر شہر کے تمام تعلیمی اداروں میں ایک روزہ تعطیل رہی جبکہ وادی کی سب سے بڑی علمی دانش گاہ ’کشمیر یونیورسٹی‘ میں درس وتدریس کی سرگرمیاں معطل رہیں۔ تاہم تمام امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق لئے گئے ۔سوشل میڈیا پر ویڈیوز کی اپ لوڈنگ کو روکنے کیلئے شہر میں تیزرفتار والی تھری جی اور فور جی موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کی گئی ہیں۔ کشمیر انتظامیہ نے علیحدگی پسندوں کو کسی بھی احتجاجی جلسہ، جلوس یا ریلی کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یٰسین ملک کو محروس کیا گیا جبکہ حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کو گھر پر نظربند کیا گیا ہے ۔ریلوے کے ایک افسر نے بتایا کہ سکیورٹی کے پیش نظر وادی میں سبھی ٹرینیں ملتوی کردی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ہدایت ملی جس میں متعلقہ افسران کو کوئی ٹرین نہ چلانے کا احکام جاری کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT