Friday , September 21 2018
Home / اداریہ / سشماسوراج بھی تنازعہ کا شکار

سشماسوراج بھی تنازعہ کا شکار

باغبانِ آگ دی جب آشیانہ کو مرے جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے سشماسوراج بھی تنازعہ کا شکار

باغبانِ آگ دی جب آشیانہ کو مرے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
سشماسوراج بھی تنازعہ کا شکار
وزیر خارجہ سشماسوراج کو ایک صاف شبیہ رکھنے والی بااثر خاتون سیاست دان سمجھاجاتا ہے ۔ وہ کئی اہم عوامی عہدوںپرخدمات انجام دے چکی ہیں۔مرکزی وزارتوں میں ذمہ داریوں کے علاوہ وہ دہلی کی چیف منسٹر بھی رہ چکی ہیں۔ بی جے پی میںبھی انہیں معزز سمجھا جاتا ہے ۔ گذشتہ انتخابات سے کچھ قبل نریندر مودی سے ان کے معمولی اختلافات کی بھی اطلاع آئی تھی تاہم بعد میں یہ اختلافات ختم ہوگئے اور انہیں وزارت خارجہ کی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ اپوزیشن کی صفوں میں رہتے ہوئے بھی انہوں نے اپنی ذمہ داری نبھائی تھی تاہم اب وہ ایک تنازعہ کا شکار ہوگئی ہیں۔یہ تنازعہ معمولی نوعیت کا نہیں کہا جاسکتا حالانکہ بی جے پی اور حکومت کی جانب سے سشما سوراج کی مکمل مدافعت کی جا رہی ہے لیکن اس کے نتیجہ میں ان کی شبیہہ ضرور متاثر ہوگی ۔ بات ہے بھی امیج متاثر کرنے والی کیونکہ سشماسوراج پر الزام ہے کہ انہوں نے ہندوستان میںمطلوب آئی پی ایل میںخرد برد اور سٹہ بازی کے ملزم للت مودی کو برطانیہ میں سفری دستاویزات فراہم کروانے کی سفارش کی تھی ۔ سشماسوراج اس بات کو تو قبول کرتی ہیںکہ جولائی 2014 میںکسی وقت للت مودی نے ان سے رجوع ہوکر سفری دستاویزات کے حصول میں مددکی خواہش کی تھی کیونکہ للت مودی کے مطابق ان کی اہلیہ علیل تھیں اور ان کا پرتگال میںآپریشن ہونے والا تھا ۔ ہندوستان کی وزیر خارجہ رہتے ہوئے سشماسوراج نے برطانوی رکن پارلیمنٹ سے رابطہ کیا اور للت مودی کی سفارش کی ۔ رکن پارلیمنٹ کیتھ واز نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور برطانوی حکام پر یہ واضح کیا کہ حکومت ہند کو للت مودی کو سفری دستاویزات کی اجرائی پر کوئیاعتراض نہیں ہے اور اس وجہ سے دونوںملکوں کے تعلقات خراب نہیں ہونگے ۔ یہی نہیں بلکہ سشماسوراج نے اس سلسلہ میں برطانوی ہائی کمشنر سے بھی بات چیت کرتے ہوئے للت مودی کی سفارش کی تھی ۔ سشما سوراج کی کوشش اور ان کے اثر و رسوخ ہی کا نتیجہ تھا کہ للت مودی کو برطانوی حکومت کی جانب سے سفری دستاویزات کی اجرائی عمل میں لائی گئی جو 2010 کے بعد سے مسلسل لندن میں قیام کوترجیح دے رہے ہیںحالانکہ وہ ہندوستان میںمطلوب ہیں۔
للت مودی پر آئی پی ایل ٹی وی حقوق کی فروخت میں کروڑ ہا روپئے کے خرد برد کاالزام ہے اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے ان کے خلاف ایک نوٹس بھی جاری کر رکھی ہے ۔ ملک کی تمام بندرگاہوںاور ائرپورٹس پر انہیں کہیں بھی گرفتار کیاجاسکتا ہے تاکہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے حوالے کیا جاسکے۔ ان سے اس خرد برد کے سلسلہ میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے صرف ایک مرتبہ ممبئی میںپوچھ تاچھ کی تھی جس کے بعد سے وہ لندن روانہ ہوگئے اور خود معلنہ جلا وطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ اب تک انہوں نے ہندوستان میں تحقیقاتی ایجنسیوںکے ساتھ کسی طرح کا تعاون نہیں کیا ہے اور پوچھ تاچھ و تحقیقات سے بچنے کے مقصد ہی سے لندن میں قیام کئے ہوئے ہیں۔للت مودی کا پاسپورٹ سابق یو پی اے حکومت نے منسوخ بھی کردیا تھا تاہم قانونی لڑائی میںدہلی ہائیکورٹ نے اسے بحال کردیا۔ اس سب کے باوجود سشماسوراج نے للت مودی کی مدد کی ہے ۔ یہ تعلق صرف سشماسوراج تک محدود بھی نہیںہے۔سشماسوراج کی دختر للت مودی کے وکیل کے ساتھ کام کرتی ہے اور اس معاملہ میں ان کا رول بھی ہوسکتا ہے ۔ ساتھ ہی للت مودی کی سشما سوراج کی جانب سے مدد کے عوض میں سشما کے شوہر سوراج کوشل نے اپنے بھانجے کو لندن کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ دلانے کیلئے للت مودی کی مدد حاصل کی تھی ۔ یہ سب کچھ ایک دوسرے کے فائدہ کیلئے ایک دوسرے کی مدد کرنے کا معاملہ ہے اور اس کو معمولی نوعیت کے الزامات قرار دیتے ہوئے مسترد کرنا درست یا مناسب نہیں ہوگا ۔
اب بھلے ہی حکومت اور بی جے پی دونوں ہی سشماسوراج کی مدد کر رہے ہوں اور ان کی مدافعت پر اتر آئے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سشماسوراج نے جانتے بوجھتے ایک ایسے فرد کی مددکی ہے جو ہندوستان میںالزامات کا سامنا کر رہا ہے اور تحقیقات سے بچنے کیلئے لندن میںمقیم ہے ۔ ملک کی وزیر خارجہ رہتے ہوئے للت مودی کو ہندوستان لانے کی کوشش کرنے کی بجائے انہیں بیرون ملک سفر کے دستاویزات فراہم کرنے کیلئے اپنے عہدے کا اثر و رسوخ استعمال کرنا قابل مدافعت نہیںہوسکتااور نہ اس کاکوئی جواز ہوسکتا ہے۔ جس طرح کانگریس نے سشما سے استعفی کا مطالبہ کیاہے اسکو دیکھتے ہوئے حکومت کو اپنی غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ سشماسوراج سے استعفی طلب کرتے ہوئے اس سارے معاملہ کی تحقیقات ہونی چاہئیںتاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کس نے کس کی مدد کی اور کس نے کس سے فائدہ اٹھایا ۔

TOPPOPULARRECENT