Wednesday , December 13 2017
Home / ہندوستان / سشما کا دورہ پاکستان عزیز سے مجوزہ بات چیت

سشما کا دورہ پاکستان عزیز سے مجوزہ بات چیت

جامع ہند۔ پاک مذاکرات پر توجہ مرکوز کرنے سرتاج عزیز کا اعلان

نئی دہلی / اسلام آباد ۔ 7ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر خارجہ سشما سوراج کل پاکستان روانہ ہوں گی تاکہ کثیر جہتی کانفرنس میں شرکت کرسکیں ‘ جو اسلام آباد میں مقرر ہے ۔ وہ وزیر خارجہ پاکستان سرتاج عزیز سے بات چیت کریں گی ۔ جنہوں نے کہا ہے کہ وہ جامع مذاکرات کے احیاء پر توجہ مرکوز کریں گے ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے اپنے ٹوئیٹر پر تحریر کیا کہ وزیر خارجہ سشما سوراج ہندوستانی وفد کی قیادت کریں گی جو پانچویں وزارتی سطح کے اجلاس ’’ ایشیاء کا قلب ‘‘ کے نام سے 9ڈسمبر کو اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی جس میں افغانستان کے وزیر خارجہ بھی شرکت کریں گے ۔ سشما سوراج کا دورہ مشیران قومی سلامتی برائے ہندوستان اور پاکستان کی کل بینکاک میں گفتگو کے دو دن بعد ہورہا ہے ۔ مشیران نے دہشت گردی ‘ جموں و کشمیر اور کئی باہمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا تھا ۔ علاوہ ازیں تعمیری روابط کی پیشرفت سے اتفاق کیا تھا ۔ سشما سوراج وزیراعظم پاکستان نواز شریف و مشیر برائے خارجی اُمور عزیز سے افغان چوٹی کانفرنس کے دوران چہارشنبہ کو اسلام آباد میں ملاقات کریں گی ۔اسلام آباد میں عزیز نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کل سشما سوراج ’’ ایشیاء کے قلب ‘‘ کانفرنس میں شرکت کیلئے آرہی ہیں ۔اس دورہ کے موقع پر وہ نواز شریف سے بھی ملاقات کرے گی ۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ ہند ۔ پاک تعلقات کا تعطل کچھ حد تک دور ہوچکا ہے ۔ بات چیت کے دوران سشما سوراج سرتاج عزیز کے بموجب کئی موضوعات پر بشمول جامع مذاکرات کے احیاء پر تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔ سشما سوراج اپنے دورہ کے موقع پر معتمد خارجہ ایس جئے شنکر کے ہمراہ ہوں گی جو قبل ازیں چار گھنٹہ طویل اجلاس میں وہ قومی مشیر قومی سلامتی اجیت ڈوول اور قومی مشیر سلامتی پاکستان نصیر جنجوعہ کے درمیان بینکاک میں بات چیت کے دوران موجود تھے ۔ملاقات کے بعدمشیران قومی سلامتی نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ نریندر مودی اور نواز شریف کی پیرس میں ماحولیات کے موضوع پر چوٹی کانفرنس کے دوران علحدہ ملاقات کا تسلسل مشیران قومی سلامتی کی بات چیت ہے ۔ دونوں ممالک کے مشیروں نے اس تاویل کو مسترد کردیاتھا جو ہندوستان نے کی تھی کہ یہ صرف ’’ خیرسگالی تبادلہ خیال‘‘ تھا ۔ حالانکہ شریف نے پاکستانی اخبارات میں کہا تھا کہ اجلاس اچھا رہا اور بات چیت کے دروازے کھل جانے چاہیئے ۔

TOPPOPULARRECENT