Friday , November 24 2017
Home / ہندوستان / سعودی انتخابات میں کامیابی خواتین کا عظیم کارنامہ : مرکزی وزیر اقلیتی بہبود

سعودی انتخابات میں کامیابی خواتین کا عظیم کارنامہ : مرکزی وزیر اقلیتی بہبود

نئی دہلی ۔ 15 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے آج سعودی عرب کے مجالس مقامی انتخابات میں کامیابی کو ان کا ایک عظیم کارنامہ قرار دیا اور ملک کے عوام کو بشمول ملک سلمان بن عبدالعزیز السعود کو اس کارنامہ پر مبارکباد پیش کی۔ رائے دہی 12 ڈسمبر کو منعقد کی گئی تھی۔ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کو حق رائے دہی استعمال کرنے اور انتخابی مقابلہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ خاتون امیدواروں کی کامیابی سعودی عرب کے بلدی انتخابات میں ایک عظیم کارنامہ ہے۔ نجمہ ہپت اللہ نے اپنے ایک بیان میں تمام کامیاب خواتین کو مبارکباد پیش کی۔ ملک سلمان اپنے ایک مکتوب میں نجمہ ہپت اللہ نے پروفیسر مرحوم عبداللہ بن عبدالعزیز السعود کی کوششوں کی بھی ستائش کی جنہوں نے خواتین کے حق رائے دہی کیلئے مہم چلائی تھی اور ان کے سیاسی عمل میں شامل ہوجانے کیلئے زور دیا تھا تاکہ انتخابی نتائج زیادہ بااعتبار ہوجائیں۔ اپنے پیغام میں نجمہ ہپت اللہ نے یاد دہانی کی کہ وہ بحیثیت صدر بین پارلیمانی یونین جمہوری اداروں کے سعودی عرب میں استحکام میں شریک تھیں۔ انہوں نے ان مقامات کا اعلان کیا تھا جہاں خواتین حکمران محکموں میں سعودی عرب کے مرحوم حکمران کے ساتھ شرکت کرسکتی تھیں۔ اپنے مکتوب میں نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہیکہ ملک سلمان بن عبدالعزیز السعود اپنے پیشرو ملک عبداللہ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ ان کی وسیع پیمانے پر جمہوری نظریات کی سرپرستی ثابت کرے گی کہ انہوں نے ایک سنگ میل کارنامہ انجام دیا ہے۔ صرف سعودی عرب کیلئے نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کیلئے سعودی رائے دہندوں نے مجالس مقامی کی نشستوں کیلئے 20 خواتین کو منتخب کیا ہے۔ ایک دن قبل خواتین نے رائے دہی میں حصہ لیا تھا اور انتخابی مقابلہ میں بھی شرکت کی تھی۔ یہ سعودی عرب کی تاریخ کے اولین انتخابات تھے جن میں خواتین کو انتخابی مقابلہ اور رائے دہی کا حق دیا گیا تھا۔ کامیاب رہنے والی خواتین بڑے پیمانے پر ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ سعودی عرب کے سب سے بڑے شہر سے لیکر مقدس ترین مقام کے قریب ایک چھوٹے سے قصبہ کی نمائندہ خواتین نے انتخابات میں شرکت کی ہے۔ 20 امیدوار تقریباً 2100 مجالس بلدیہ کی نشستوں کیلئے صرف ایک فیصد ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT