Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / سعودی خواتین ڈرائیونگ کی منتظر ‘امتناع کی برخواستگی کا خیرمقدم

سعودی خواتین ڈرائیونگ کی منتظر ‘امتناع کی برخواستگی کا خیرمقدم

خواتین میںآزادی اور با اختیاری کا احساس ‘ ملک کی معیشت کو مدد کا ادعا ‘ آزادخاتون مترجم کا انٹرویو

ریاض۔4مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) سعودی عرب کے تاریخی فیصلہ پر کہ خواتین ڈرائیورس پر مملکت میں عائد امتناع برخواست کیا جائے گا ‘ کا خواتین کی جانب سے پُرجوش خیرمقدم کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ہم ڈرائیور کی نشست پر اسٹیرنگ کے پیچھے بیٹھنے کی منتظر ہیں ۔ کیونکہ یہ خواتین کیلئے بہتر مستقبل کا نقیب ہے ۔ مملکت سعودی عرب کی پالیسی میں تبدیلی کا ایک شاہی فرمان کے ذریعہ ملک سلمان بن عبدالعزیز السعود نے گذشتہ ستمبر میں اعلان کیا تھا ۔ اس اقدام کو ایک ’’نمایاں ‘‘ قرار دیتے ہوئے وعد ابراہیم نوجوان آزاد مترجم نے کہا کہ یہ فیصلہ طویل مدت سے منتظرہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے خواتین میں آزادی اور بااختیاری کا احساس پیدا ہوگیا ہے ۔’’ ایک نوجوان سعودی خاتون کی حیثیت سے میں بہت خوش اور پُرجوش ہوں ‘ مجھے یقین ہے کہ دیگر خواتین بھی ایسا ہی محسوس کررہی ہوں گی ۔ ہم سب اس فیصلہ کے ایک عرصہ سے منتظر تھے ۔انہوں نے فون پر پی ٹی آئی سے کہا کہ یہ خواتین کو صرف ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دینے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ان کی نجات اور آزادی کی راہ اس سے ہموار ہوجاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس ہفتہ کے اختتام پر ریاض کے بین الاقوامی انسانی بنیاد کے فورم کی جانب سے خواتین کی آزادی اور بااختیاری کی تقریب منائی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے خاندانوں کے اخراجات میں کمی آئے گی ۔ ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جس سے معاشی ترقی کو مدد ملے گی ۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایک کار خریدنے کا منصوبہ بنارہی ہیں اور اپنا آرڈر پہلے ہی بک کروا چکی ہیں ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب تبدیل ہورہا ہے ۔ سابق معاشرہ ایسے فیصلوں کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں تھا لیکن اس فیصلہ کو منظور کیا جاچکا ہے اور اب زیادہ کھلے پن کی تبدیلیوں کو بھی منظور کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان اس اقدام کے سماجی اور معاشی اثرات پر ایک عرصہ سے غور کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد خواتین کی افرادی طاقت میں شراکت داری کا حصہ 2030ء تک 22فیصد سے 30فیصد کردینا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب تیل کی دولت سے مالا مال ہے اور خانگی شعبہ کی ترقی کو تحریک دے رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک قابل ستائش فیصلہ ہے ‘ ہم کار چلانے کی امیدیں چھوڑ چکے تھے یہ فیصلہ طویل عرصہ پہلے کیا جانا تھا لیکن انہوں نے کہا کہ کبھی نہ ہونے سے تاخیر سے ہونا بہتر ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب خواتین بھی بااختیاری اور آزادی کا احساس رکھ سکیں گی اور اس کے ساتھ ہی ساتھ رقم بھی بچا سکیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے دورس اثرات مرتب ہوں گے ۔ سعودی خواتین کو عنقریب کام کرنے کی اجازت بھی مل جائے گی ۔ انہیں غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ امتناع سے عالمی گیر سطح پر ملک کی شبیہہ متاثر ہورہی تھی۔

TOPPOPULARRECENT