Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / سعودی سفیر پر عصمت ریزی کا الزام

سعودی سفیر پر عصمت ریزی کا الزام

NEW DELHI, SEP 9:- Two veiled Nepali women, who told police they were raped by a Saudi official, sit in a vehicle outside Nepal's embassy in New Delhi, India, September 9, 2015. Indian police are investigating accusations that a Saudi Arabian embassy official repeatedly raped the two Nepali maids at his home close to the capital, New Delhi, in a case that could reignite the debate over immunity granted to diplomats. The two women, aged 30 and 50, told police they were raped, assaulted, starved and held hostage over several months after leaving Nepal to work for the official. REUTERS/UNI PHOTO-14R

دو نیپالی خواتین کو زبردستی محروس رکھاگیا، پولیس کارروائی

نئی دہلی ۔ 9 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے سفیر برائے ہند سعود محمد السطی نے اپنے دیگر سفارتی عہدیداروں کے ہمراہ وزارت خارجہ کے سینئر عہدیداروں سے ملاقات کی اور اپنے سفیروں میں سے ایک سفیر کی رہائش گاہ پر ہریانہ پولیس کی کارروائی کے خلاف احتجاج کیا۔ سعودی عرب کے سفیر پر الزام ہیکہ انہوں نے مبینہ طور پر نیپال کی دو خواتین کی عصمت ریزی کی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق سفیر نے وزارت خارجہ میں جوائنٹ سکریٹری تھنگ لورا درلون سے ملاقات کی اور سفیر کے مکان پر پولیس کی دراندازی کے خلاف احتجاج کیا۔ سفارتخانہ میں وہ فرسٹ سکریٹری کے مرتبہ کے حامل سفیر ہیں۔ ان کا دعویٰ ہیکہ پولیس کی یہ کارروائی ویانا کنونشن کے مغائر ہے۔ ہریانہ پولیس کی جانب سے سفیر کے مکان میں گھس آنے پر احتجاج کیا گیا ہے۔ اسی دوران سعودی عرب کے سفیر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ان کے خلاف عائد کردہ الزامات کو ’’بے بنیاد اور جھوٹے‘‘ قرار دیا کہ انہوں نے نیپال کی دو خواتین کی عصمت ریزی کی اور ان کے ساتھ برا برتاؤ کیا۔

سفارتخانہ نے پرزور طور پر کہا کہ یہ الزام سراسر غلط ہے۔ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 30 کے تحت کسی بھی سفیر کے خانگی رہائش گاہ پر دھاوا نہیں کیا جاسکتا۔ سفارتخانہ نے تاہم وزارت خارجہ کی جانب وضاحت کا انتظار کیا ہے۔ پولیس نے تحقیقات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سعودی سفیر نے دو نیپالی خواتین کو اپنے گھر میں محروس رکھ کر عصمت ریزی کی۔ گڑگاؤں پولیس کمشنر نے کہا کہ یہ عہدیدار ویانا کنونشن کے تحت سفارتی اختیارات سے استفادہ کررہا تھا۔ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا جرم ثابت ہوا ہو۔ پولیس کمشنر نودیپ سنگھ ورک نے کہا کہ پولیس وزارت خارجہ سے ربط پیدا کئے ہوئے ہیں۔ تحقیقاتی تفصیلات پیش کی جائیں گی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آیا ملزم سفیر کو شناخت کیلئے طلب کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ وزارت خارجہ کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔ اسی دوران نیپال کی دونوں خواتین نے الزام عائد کیا کہ سفیر اور ان کے مہمانوں نے مل کر گرگاؤں کے ایک فلیٹ میں ان کی زبردستی عصمت ریزی کی گئی۔ پولیس نے ان دونوں خواتین کی دوبارہ طبی جانچ کروائی ہے۔ یہ طبی جانچ بورڈ آف ڈاکٹرس کی جانب سے کی گئی۔ ابتدائی طبی معائنوں پر نہ ہی متاثرہ خواتین نے اور وزارت خارجہ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اس کے بعد ہی ایف آئی آر درج کیا گیا۔ طبی معائنہ کو دوبارہ انجام دینے کا مطلب ہم اپنی تحقیقات کو مزید ٹھوس بنانا چاہتے ہیں کیونکہ اس کیس میں سنگین جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

 

ملازمت کا جھانسہ دیکر عصمت ریزی کی گئی
گڑگاؤں ۔ 9 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) نیپال کی دو خواتین ماں اور بیٹی نے اپنے بیان میں بتایا کہ سعودی عرب کے خاندان نے انہیں خادمہ کی حیثیت سے ملازمت پر رکھا اور ان سے جدہ میں خادمہ کی حیثیت سے کام لیا گیا۔ چند ماہ وہاں رکھنے کے بعد انہیں ہندوستان لاکر گڑگاؤں کے اپارٹمنٹ میں رکھا گیا۔ ان کا الزام ہیکہ سعودی خاندان نے انہیں 4 ، 5 ماہ تک محروس رکھ کر زدوکوب کیا اور کسی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی اور انہیں باہر جانے تک نہیں دیا گیا۔ فلیٹ میں رہنے والے سعودی شہریوں کو خوش کرنے کیلئے انہیں زبردستی کیا جاتا رہا۔ چند دن بعد ان خادماؤں نے اپارٹمنٹ میں رہنے والی دیگر خادمہ کے سامنے اپنی حالت سے واقف کروایا۔ جس نے این جی او کو اطلاع دی اور نیپال کے سفارتخانہ کو بھی یہ خبر پہنچائی گئی۔ اس نے پولیس کی مدد سے اس واقعہ کے خلاف ایف آئی آر درج کروایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہیکہ متاثرین کے بیانات جوڈیشیل مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے مطابق قلمبند کئے گئے ہیں۔ ان خواتین نے عصمت ریزی، زدوکوبی اور دھمکیوں سے متعلق اپنے بیانات پر قائم رہتے ہوئے پولیس آفیسرس کے سامنے بھی یہی بیان دیا۔ خواتین نے مزید کہا کہ انہیں ایک کمرہ میں مقفل رکھا گیا تھا۔ چاقو دکھا کر انہیں دھمکایا جاتا تھا۔

TOPPOPULARRECENT