Monday , December 11 2017
Home / عرب دنیا / سعودی شہریوں کو اجنبی خواتین سے شادی کیخلاف انتباہ

سعودی شہریوں کو اجنبی خواتین سے شادی کیخلاف انتباہ

بغیراجازت غیرملکی خاتون سے شادی پر سزاء کی تجویز، عمر کی حد مقرر نہیں

ریاض ۔11  اگست (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ ایسی خبروںکی توثیق ہوچکی ہے کہ سعودی مرد جنوبی سرحدی علاقوں کی ایسی خواتین سے شادی رچا رہے ہیں جو ان کے لئے بالکل اجنبی ہیں۔ وزارت داخلہ نے شہریوں کو انتباہ دیا ہے کہ وہ اس نوعیت کی شادیاں کرتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی نہ کریں۔ یہ انتباہ دیا گیا ہیکہ کوئی بھی سعودی شہری اگر بیرونی خاتون سے بغیر اجازت حاصل کئے شادی کرے گا اسے حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا جہاں وہ اس کی سزاء تجویز کریں گے۔ یاد رہے کہ مشرق وسطی میں سعودی عرب اور یمن ہی دو ایسے عرب ممالک ہیں جہاں شادی کیلئے کسی مخصوص عمر کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔ ڈسمبر 2011ء کی ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق یمن میں اوسطاً 14 فیصد لڑکیوں کی شادیاں 15 سال کی عمر سے پہلے کردی جاتی ہیں جبکہ 52 فیصد لڑکیاں ایسی ہیں جن کی شادی 18 سال کی عمر سے قبل ہوجاتی ہیں۔ یمن کو عالم عرب کا غریب ترین ملک تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ سعودی عرب کی قیادت میں فضائی حملوں کے بعد ایسے لوگ جو یمن سے فرار ہوئے ہیں، وہ 1800 کیلو میٹر کا سرحدی فاصلہ طئے کرتے ہوئے یہاں غیرقانونی طور پر آئے ہیں، ان کے لئے خادم حرمین شریفین نے 46 اصلاحاتی مراکز قائم کئے ہیں جہاں ان غیرقانونی طور پر داخل ہوئے یمنی شہریوں کی مدد کی جائے گی جو 9 اپریل سے پہلے یہاں آئے ہیں تاکہ ان کے رہائشی موقف کو درست کیا جائے اور اس طرح اب تک مملکت میں زائد از 4 لاکھ یمنی شہریوں کے رہائشی موقف کو درست کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT