Monday , June 18 2018
Home / Top Stories / سعودی شہریوں کو ٹیکسوں کے اثرات سے بچانے رعایتیں

سعودی شہریوں کو ٹیکسوں کے اثرات سے بچانے رعایتیں

سپاہیوں اور سرکاری ملازمین کو 1000 ریال کا الاؤنس ، سرحدی فوجیوںکو بونس

طلبہ کے اسٹیفنڈ میں 10 فیصد تک اضافہ

ریاض ۔ /6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے آج اعلان کیا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد مملکت میں پہلی مرتبہ نافذ کئے جانے والے ٹیکسیس کے بشمول مختلف اقتصادی اصلاحات کے اثرات سے نمٹنے کے لئے شہریوں کو مختلف بھتوں ، فوائد اور رعایتوں کا متبادل دیا جائے گا ۔ سعودی عرب میں برسرخدمت اکثر شہری سرکاری دفاتر اور اداروں میں ملازمت کیا کرتے ہیں جو تیل کی دولت سے مالا مال دیگر خلیجی مملکتوں کے شہریوں کی طرح ایک طویل عرصہ سے حکومت کے فیاضانہ سرکاری فلاحی نظام سے بھرپور استفادہ کرتے رہے ہیں۔ عالمی تیل مارکٹ میں 2014 ء کے بھونچال کے بعد سعودی عرب کے علاوہ اس کے پڑوسی متحدہ عرب امارات نے بھی متعدد خدمات اور اشیاء پر مشمول قدر ٹیکس (ویاٹ) عائد کیا جس پر نئے سال 2018ء کے آغاز سے عمل آوری شروع ہوگئی ۔ سعودی خاندانوں پر اقتصادی اصلاحات کے اثرات کو آسان بنانے کے مقصد سے شاہ سلمان نے جمعہ کو مملکت کے تمام سرکاری ملازمین اور فوجی اہلکاروں کو فی کس 1000 ریال (267 ڈالر یا 222 یورو) کا گرانی الاؤنسجاری کرنے کا حکم دیا ۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ طلبہ کے اسٹفنڈ میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ۔ قدرتی توانائی کی دولت سے مالا مال خلیجی ریاستیں ابتداء سے نہ صرف اپنے تمام شہریوں بلکہ بیرونی محنت کشوں کے لئے ٹیکس سے پاک پناہ گاہیں ‘‘ رہی ہیں ۔ جہاں سے بالخصوص بیرونی تارکین وطن کسی ٹیکس کے بغیر اپنی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ گھر بھیجتے ہیں ۔ لیکن اب یہی ممالک گزشتہ دو سال سے مختلف کفایتی اقدامات اپنانے لگے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں ہولناک کمی کے ساتھ بجٹ میں بھاری خسارہ سے نمٹنے کے لئے آمدنی میں اضافہ اور مصارف میں کمی کے لئے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ شاہ سلمان کی طرف سے جمعہ کو جاری کردہ فرمان کے مطابق یمنی سرحد پر شیعہ باغیوں کے خلاف جنگ میں مصروف سعودی سپاہیوں کو 5000 ریال (1,333 ڈالر) کا بونس دیا جائے گا ۔ کسی بھی سعودی شہری کی طرف سے پہلے گھر کی خریدی پر حکومت ہی 8,50,00 ریال کا ٹیکس برداشت کرے گی ۔ سعودی عرب میں لیکن تاحال انکم ٹیکس نافذ نہیں کیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT