Wednesday , November 21 2018
Home / Top Stories / سعودی عالمی سرمایہ کار کانفرنس پر خشوگی قتل کے اثرات

سعودی عالمی سرمایہ کار کانفرنس پر خشوگی قتل کے اثرات

امریکہ، برطانیہ، فرانس کی عدم شرکت، چین اور روس کی کمپنیوں کی بھی سرد مہری، عمران خان کی شرکت

ریاض 23 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب میں حکومت کے نقاد اور سینئر جرنلسٹ جمال خشوگی کی ہلاکت پر پیدا شدہ تنازعہ کے پیش نظر کئی عالمی پالیسی سازوں اور سرکردہ شخصیات کی شرکت کی منسوخی کے باوجود عالمی سرمایہ کاری کانفرنس شروع ہوگئی۔ تین روزہ مستقبل کی سرمایہ کاری مساعی (ایف آئی آئی) چوٹی کانفرنس کا مقصد پٹرول پیدا کرنے والی اس مملکت کو تجارت و سرمایہ کاری کے لئے عالمی سطح پر ایک پُرکشش مقام کے طور پر پیشکشی کے ذریعہ کئی ارب ڈالر مالیتی کنٹراکٹس اور نئے وینچرس کے آغاز کے لئے راہ ہموار کرنا ہے لیکن ’ڈاوس درون صحرا‘ سے یہ عالمی چوٹی کانفرنس استنبول میں 2 اکٹوبر کو اس مملکت کے قونصل خانہ میں شاہی حکومت کے ایک کٹر ناقد صحافی جمال خشوگی کے قتل پر بڑھتی ہوئی عالمی برہمی کی لہر کے سایہ تلے متاثر رہی کیوں کہ سرکردہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے بطور احتجاج خود کو دور رکھا۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے خشوگی کے قتل سے متعلق برہنہ سچائی‘ کو بے نقاب کرنے کا عہد کیا ہے۔ انقرہ نے خشوگی کی موت کو انتہائی منظم انداز میں منصوبہ بند قتل قرار دیا ہے۔ ریاض کانفرنس بہرحال سخت ترین سکیورٹی کے درمیان اس شہر کی وٹز کارلسٹن ہوٹل میں شروع ہوئی جس میں روسی راست سرمایہ کاری فنڈ کے سربراہ کیریل دیمتریف، سرکردہ فرانسیسی توانائی ادارہ کے پیٹرک پویاٹین اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان افتتاحی دن کے توثیق شدہ مقررین کی فہرست میں شامل تھے لیکن اُن سرکردہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں، صنعتی و تجارتی شخصیات کی فہرست میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جنھوں نے خشوگی کی ہلاکت کے خلاف سعودی عرب سے احتجاج کے طور پر کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹائین لگارڈے اور امریکی معتمد خزانہ اسٹیوین منوچن نے شرکت سے انکار کردیا ہے۔

سیمینس کے چیف ایگزیکٹیو جوکیزر، جے پی مورگن، اوبر جیسے کارپوریٹ اداروں، بلومبرگ اور فینانشیل ٹائمز جیسے میڈیا اداروں نے بھی شرکت کے منصوبوں کو ترک کردیا ہے۔ امریکہ کے سعودی عرب سے کئی ارب ڈالر مالیتی دفاعی معاملتیں ہیں جس کے باوجود امریکہ، فرانس اور برطانیہ کے وزراء اس کانفرنس میں شرکت نہیں کررہے ہیں۔ تاہم پاکستان کے عمران خان شرکت کررہے ہیں کیوں کہ ان کی حکومت اپنی بگڑتی ہوئی مالی حالت کو سدھارنے کے لئے بدستور سعودی عرب سے فنڈس اور مالی مدد طلب کرتی رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ادارہ کے مطابق اس کانفرنس سے مغربی ملکوں کے بڑے پیمانے پر وسیع تر بائیکاٹ سے سعودی عرب کے لئے سیاسی خطرات اور جوکھم میں اضافہ ہورہا ہے جس سے وہاں راست بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوسکتی ہے جو گزشتہ 14 سال کے دوران پہلی مرتبہ انتہائی کمتر سطح پر پہونچ چکی ہے۔ تنازعات و مشکلات سے بُری طرح متاثرہ سعودی سرمایہ کاری چوٹی کانفرنس کی مصیبتوں میں گزشتہ روز اُس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب بظاہر ایک سائبر حملے میں فورم کا ویب سائٹ ناکارہ ہوگیا۔ لیکن کسی نے بھی فوری طور پر اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ کانفرنس کے آغاز سے قبل تخفیف شدہ مواد کے ساتھ اس ویب سائٹ کو بحال کرلیا گیا۔ مغربی ممالک کی جانب سے بائیکاٹ کے باوجود چین اور روس کی کمپنیوں نے بھی سعودی کانفرنس کے تئیں زیادہ دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ جمال خشوگی کی موت سے مربوط حالات و واقعات کٹر قدامت پسند مملکت میں حالیہ عرصہ کے دوران حکومت سے ناراض افراد کے خلاف کی گئی کارروائیوں سے بڑی حد تک مماثلت رکھتے ہیں کیوں کہ شاہ سلمان کے بیٹے اور ولیعہد محمد جو بالواسطہ حاکم و حکمراں بھی سمجھے جاتے ہیں، ان کی ایماء پر کئی ناراض تاجرین، صنعتکاروں علمائے دین اور خاتون جہد کاروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یمن میں سعودی عرب کے ایک مہنگی جنگ میں اُلجھنے، پڑوسی خلیجی مملکت قطر کے خلاف تحدیدات مسلط کرنے کے سبب بھی بیرونی سرمایہ کاروں کی اُلجھن میں اضافہ ہوا ہے۔ علاوہ ازیں ریاض اب جرمنی اور کنیڈا کے ساتھ سفارتی تنازعات میں اُلجھا ہوا ہے۔ جس کے نتیجہ میں تجارتی تعلقات کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT