Wednesday , December 19 2018

سعودی عالم دین سلمان العودہ چار ماہ سے قید،گرفتاری کے انکشاف پر بھائی بھی زیرحراست

بیروت ۔ /7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) انسانی حقوق کے ایک عالمی نگراں ادارہ ہیومن رائیٹس واچ نے آج کہا کہ سعودی عرب میں ناراض افراد کے خلاف کی گئی کارروائی کے دوران گرفتار شدہ ایک سرکردہ سعودی عالم دین کو گزشتہ چار ماہ سے قید میں رکھا گیا ہے ۔ جن پر ہنوز نہ کوئی الزام عائد کیا گیا ہے اور نہ ہی بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ برقرار رکھا گیا ہے ۔ سلمان العودہ بھی ستمبر میں گرفتار شدہ ان 20 افراد میں شامل تھے ۔ بقول سعودی حکومت ’’اس مملکت کی سکیوریٹی اور مفادات کے خلاف بیرونی فریقوں کے فائدہ کی خاطر جاسوس سرگرمیوں کے خلاف یہ کارروائی کی گئی تھی ‘‘ ۔ تاہم العودہ کے خاندان کا سمجھنا ہے کہ پڑوسی قطر کے بارے میں ایک ٹوئیٹ پر انہیں گرفتار کیا گیا ہوگا کیونکہ سعودی حکومت نے قطر پر ایران اور اسلامی انتہاپسندوں سے رابطوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے اس کے ساتھ اپنے تمام تعلقات کو منقطع کرلیا تھا ۔ نیویارک میں واقع ہیومن رائیٹس واچ نے کہا ہے کہ العودہ کی گرفتاری کے بعد ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی اور نہ ہی ان پر کوئی الزام عائد کیا گیا ہے ۔ اس عالم دین کو صرف ایک مرتبہ اکٹوبر میں ایک فون کال کرنے کی اجازت دی گئی تھی ۔ سعودی جہد کاروں کا کہنا ہے کہ سلمان العودہ کی گرفتاری کی اطلاع کا انکشاف کرنے پر ان کے بھائی خالد العودہ کو بھی حراست میں لے لیا گیا ۔ اس مملکت کے سخت ترین سائبر جرائم قوانین بالخصوص ٹوئیٹر پوسٹس اور ناراضگی و بے چینی کے الزامات کے تحت درجنوں سعودی شہریوں کو مجرم قرار دیتے ہوئے جیلوں کے حوالے کردیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT