Wednesday , August 15 2018
Home / Top Stories / سعودی عرب۔امارات میں مشترکہ تعاون کے 20 معاہدے

سعودی عرب۔امارات میں مشترکہ تعاون کے 20 معاہدے

معاشی، دفاعی صنعت کو فروغ دینے گیاس، بنکنگ امور پر بھی معاہدے، محمد بن سلمان اور شیخ محمد بن زائد کی بات چیت

ریاض ۔ 7 جون (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے دونوں ملکوں کی مشترکہ معاشی، ترقیاتی اور عسکری سوچ کے مظہر 44 اسٹرٹیجک منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ان منصوبوں کی منظوری جدہ میں سعودی عرب اور یو اے ای کی کوارڈی نیشن کونسل کے پہلے اجلاس میں دی گئی جس کی صدارت ابوظہبی کے ولیعہد شیخ محمد بن زاید اور سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کی۔ تیل کی دولت سے مالامال دونوں ملکوں نے کئی اہم معاہدے کئے۔ اجلاس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کوارڈی نیش کونسل کے تنظیمی ڈھانچے کا اعلان کیا گیا۔ اس کونسل کا مقصد اہدافی منصوبوں اور پروگرامات پر عمل درآمد کی رفتار اور تعاون کو تیز کرنا ہے۔کونسل کے اہداف میں عالمی سطح پر دونوں ملکوں کی معیشت، انسانی ترقی، سیاسی، سیکیورٹی اور عسکری تعاون کے انڈیکس کو بڑھاوا دینا شامل ہے۔ نیز دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح وبہبود اور مسرت کا حصول بھی کونسل کے مقاصد میں شامل ہے۔اجلاس کے اختتام پر شیخ محمد بن زاید نے کہا کہ ہم تاریخ کے غیر معمولی دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ہمارے پاس عرب تعاون کا ایک انتہائی اہم نمونہ پیش کرنے کا موقع ہے۔ دونوں ملکوں کا استحکام اور اتحاد دراصل ہمارے مفادات کے تحفظ کا ضامن ہے۔ اس سے ہماری معیشت مضبوط ہو گی جس سے دونوں ملکوں کے عوام کا مستقبل بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ ہم عرب دنیا کی ایسی دو بڑی معاشی طاقتیں ہیں جو انتہائی جدید فوج رکھتی ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا جی ڈی پی تین ٹریلین ڈالرز مالیت کا ہدف چھو رہا ہے۔ ہماری مشترکہ برآمدات دنیا میں چوتھے نمبر پر ہیں جس کی مالیت 750 ارب ڈالر ہے۔ نیز دونوں ملک سالانہ بنیادی ڈھانچوں کے منصوبوں پر 150 ارب اماراتی درہم خرچ کر رہے ہیں جس سے باہمی تعاون کے بڑے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ ابوظہبی۔ریاض کونسل کا قیام مئی 2016 میں یو اے ای کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر عمل میں آیا۔ کونسل دنیا کے سامنے ملکوں کے درمیان تعاون کا ایک رول ماڈل پیش کرتی ہے۔ درایں اس کے ذریعے خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے درمیان تعاون بھی مضبوط ہوتا ہے۔اجلاس کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے کونسل کی پہلی میٹنگ کے محضر نامہ پر دستخط کئے۔

TOPPOPULARRECENT