Friday , April 20 2018
Home / عرب دنیا / سعودی عرب اور کویت کی لبنان سے اپنے شہریوں کی بازطلبی

سعودی عرب اور کویت کی لبنان سے اپنے شہریوں کی بازطلبی

۔100 ارب امریکی ڈالر اسکام کے خلاف کارروائی میں 201 افراد گرفتار
ریاض ۔ /9 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب اور کویت نے آج اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ’’ممکنہ حد تک جلد از جلد‘‘ لبنان کا تخلیہ کردیں ۔ چند دن قبل وزیراعظم لبنان سعد حریری نے اپنے مملکت سعودی عرب کے دورہ کے موقع پر عہدہ سے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا ۔ وزارت خارجہ کے ذریعہ نے سرکاری خبررساں ادارہ اسپا کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ سعودی شہریوں کو لبنان کا سفر نہ کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے ۔ کیونکہ وہاں کے حالات ناسازگار ہیں ۔ تاہم کوئی تفصیل ظاہر نہیں کی گئی ۔ ایک اور خبر کے بموجب مملکت سعودی عرب نے آج اعلان کیا کہ 100 ارب امریکی ڈالر کا غبن کیا گیا ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں میں بدعنوانی کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے ۔ سعودی عرب کے اٹارنی جنرل سعود المجیب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 208 افراد کو ہفتہ کی شام سے تفتیش کیلئے طلب کیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں 201 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ۔ امکان ہے کہ بدعنوان کارروائیوں کی سطح جس کا انکشاف ہوا ہے بہت زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کی بنیاد پر گزشتہ تین سال میں کم از کم 100 ارب امریکی ڈالر کا بدعنوان کارروائیوں اور گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے بڑے غبن کے ذریعہ استحصال کیا گیا ہے ۔ ناقدین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطحی کئی شہزاوں ، عہدیداروں ، فوجی عہدیداروں اور تاجرین نے ولیعہد شہزادہ کی مخالفت اور تنقید کی تھی اور اقتدار پر قبضہ کرلینے کی کوشش کی تھی ۔

قبل ازیں حراست میں لئے ہوئے کئی افراد نے ارب پتی سعودی شہزادے الولید بن طلال اور ملک عبداللہ مرحوم کے فرزندان میں سے دو بشمول شہزادہ مطعب شامل تھے ۔ جنہیں طاقتور قومی گارڈ نے ان کی برطرفی اور حراست سے پہلے ملک سے باہر جانے سے روک دیا تھا ۔ جن افراد کو قبل ازیں حراست میں لیا گیا تھا حکومت کے بموجب ان کے ناموں کا انکشاف نامناسب ہے ۔ ان کے حق خلوت کا احترام کرتے ہوئے ناموں کا انکشاف نہیں کیا جائے گا ۔ ایک اندازہ کے مطابق 1700 بینک کھاتے جو ان افراد کی ملکیت تھے منجمد کردیئے گئے ہیں ۔ ال مجیب نے توثیق کی کہ شخصی بینک کھاتے قبضے میں لے لئے گئے ہیں تاہم تعداد کا انکشاف نہیں کیا ۔ حکومت نے پرزور انداز میں کہا کہ صرف شخصی بینک کھاتے منجمد کردیئے گئے ہیں ۔ کمپنیوں اور تجارتی سرگرمیوں کے کھاتوں کو چھیڑا نہیں گیا ہے ۔ برسوں تک سعودی عرب کے شہریوں نے بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے بدعنوانیوں اور سرکاری خزانے کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے غبن کی شکایت کی جارہی تھی ۔ ایک ایسا نظام قائم تھا جس میں بڑے پیمانے پر اقرباء پروری ہورہی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT