Monday , September 24 2018
Home / دنیا / سعودی عرب درکار مقدار میں تیل کی سربراہی کیلئے تیار

سعودی عرب درکار مقدار میں تیل کی سربراہی کیلئے تیار

رسدات میں کمی پر پیداوارمیں اضافہ ممکن،سعودی وزیرتیل علی النعیمی کا بیان

رسدات میں کمی پر پیداوارمیں اضافہ ممکن،سعودی وزیرتیل علی النعیمی کا بیان
ریاض ۔ 12 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے روس اور مغرب کے درمیان یوکرین کے بحران پر جاری کشیدگی کے پیش نظر عالمی مارکیٹ میں تیل کی رسد میں ممکنہ کمی کی صورت میں اپنی پیداوار بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔سعودی وزیر تیل علی النعیمی نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’اس وقت سعودی مملکت کی تیل کی یومیہ پیدوار قریباً 96 لاکھ بیارل ہے جبکہ اس کی یومیہ پیداواری صلاحیت ایک کروڑ 25 لاکھ بیارل ہے۔ہم عالمی مارکیٹ میں تیل کی رسد میں کمی کی صورت میں پیداوار میں اضافے کے لئے تیار ہیں‘‘۔علی النعیمی نے سیول میں منعقدہ ایک کانفرنس کے موقع پر کہا کہ سعودی عرب اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے دوسرے رکن ممالک تیل کی کسی اضافی طلب کو پورا کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی ایک 100 ڈالر فی بیارل قیمت صارفین ،تیل کمپنیوں اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کیلئے مناسب ہے۔یوکرین میں جاری بحران کے پیش نظر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ پیر کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق 0740 بجے برینٹ نارتھ میں 27 سینٹ اضافے کے ساتھ تیل کی قیمت 108.16 ڈالرز فی بیرل تھی اور امریکہ میں خام تیل کی قیمت تین سینٹ کے اضافے کے ساتھ 100.02 ڈالرز فی بیارل رہی تھی۔سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ اوپیک کو اپنے آئندہ اجلاس تک تیل کی موجودہ یومیہ پیداوار تین کروڑ بیرل برقرار رکھنی چاہئے کیونکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی یہ رسد مناسب ہے اور اس کا طلب کے ساتھ توازن برقرار ہے،اس لیے مارکیٹ مستحکم ہے اورفی الوقت پیداوار میں ردوبدل کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اوپیک کا آئندہ اجلاس 11 جون کو ہوگا اور اس میں امریکہ میں تیل کی پیدوار میں اضافہ اور اوپیک کے بعض رکن ممالک کی جانب سے پابندیوں اور تنازعات کے خاتمے کے بعد اپنے اپنے کوٹے کے مطابق پیدوار بڑھانے کے مطالبے پر غور کیا جائے گا۔ اوپیک کے دورکن ممالک ایران اور عراق کو ماضی قریب میں عالمی پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔ایران تیل پیدا کرنے والا تنظیم کا دوسرا بڑا رکن ہے لیکن دو سال قبل اس پر جوہری پروگرام کے تنازعہ پر پابندیاں لگا دی گئی تھیں جو اب ختم کی جارہی ہیں اور وہ اپنے سابقہ کوٹے کے مطابق تیل کی پیدوار میں اضافہ اور اسے عالمی مارکیٹ میں بھیجنا چاہتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT