Thursday , December 13 2018

سعودی عرب سے تعلقات بہتر بنانے پاکستان کی کوشش

اسلام آباد /24 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اعظم نواز شریف نے عہد کیا کہ اپنے قریبی حلیف سعودی عرب کی ’’علاقائی یکجہتی‘‘ کا تحفظ کریں گے، جب کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے سعودی زیر قیادت اتحادی فوج کی جنگ زدہ یمن میں مدد کے لئے پاکستانی فوج روانہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ نواز شریف سعودی عرب کے دورہ پر گئے تھے۔ ان کے ہمراہ ایک طاقتور وفد بشم

اسلام آباد /24 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اعظم نواز شریف نے عہد کیا کہ اپنے قریبی حلیف سعودی عرب کی ’’علاقائی یکجہتی‘‘ کا تحفظ کریں گے، جب کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے سعودی زیر قیادت اتحادی فوج کی جنگ زدہ یمن میں مدد کے لئے پاکستانی فوج روانہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ نواز شریف سعودی عرب کے دورہ پر گئے تھے۔ ان کے ہمراہ ایک طاقتور وفد بشمول سربراہ فوج جنرل راحیل شریف اور وزیر دفاع پاکستان خواجہ آصف تھا۔ انھوں نے سعودی حکمران ملک سلمان بن عبد العزیز اور دیگر اعلی سرکاری عہدہ داروں سے ایک دن طویل سرکاری دورہ کے موقع پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے دوران نواز شریف نے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپنے عہد کا اعادہ کیا کہ مملکت کی علاقائی یکجہتی کا تحفظ کریں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے دوبارہ کہا کہ مملکت سعودی عرب کی علاقائی یکجہتی کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کا پاکستان کی جانب سے سخت جواب دیا جائے گا۔ دفتر خارجہ پاکستان کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے سعودی قیادت کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے علاقائی امن و خلیجی ممالک کے استحکام کو بڑھتے ہوئے خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ یہ علاقہ دہشت گرد گروپس اور دیگر غیر سرکاری افراد کی وجہ سے غیر مستحکم نہ ہونے پائے۔

انھوں نے مملکت سعودی عرب کی علاقائی یکجہتی اور خود مختاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی سعودی عرب کے بارے میں پالیسی کا اٹوٹ حصہ ہے۔ پاکستان خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا، اگر سعودی عرب کو غیر مستحکم کرنے کی کوش کی جائے۔ ملک سلمان اور وزیر اعظم نواز شریف نے بات چیت کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے باہمی تعلقات میں مزید اضافہ کا عہد کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ سعودی حکمران ان کی دعوت پر پہلی فرصت میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔ سعودی عرب نے پاکستان سے فوجی امداد طلب کی تھی، جس میں بری فوج، لڑاکا جیٹ طیارے اور بحریہ کے جنگی جہاز شامل تھے، جنھیں یمن سے جنگ میں اتحادی فوج کے ساتھ شامل ہوجانا تھا، تاہم پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طورپر ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے غیر جانبداری برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

یمن کی خانہ جنگی میں شامل ہونے کو نامناسب قرار دیا، جس پر سعودی عرب کی قیادت برہم ہو گئی تھی۔ نواز شریف کا دورہ ان کے نوجوان بھائی شہباز شریف کی زیر قیادت ایک وفد کے دورہ ریاض کے فوری بعد ہوا، کیونکہ شہباز پاکستان کی جانب سے فوج کی روانگی کے وعدہ سے انکار پر سعودی عرب کے ساتھ پیدا ہوجانے والی کشیدگی دور کرنے سے قاصر رہے تھے۔ بعد ازاں نواز شریف نے یمن کے پریشان حال صدر منصور الہادی سے بھی ملاقات کی، جو فی الحال ریاض میں مقیم ہیں۔ پاکستان نے پرتشدد طورپر یمن کی جائز حکومت کو باغیوں کی جانب سے اقتدار سے بے دخل کردینے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ نہ صرف سعودی زیر قیادت اتحادی فوج کی ذمہ داری ہے کہ باغیوں کو شکست دے، بلکہ پوری بین الاقوامی برادری اس کی ذمہ دار ہے۔ پاکستان نے انسانی بنیادوں پر یمن میں امداد کی سربراہی میں تعاون کی پیشکش بھی کی ہے اور اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2216 پر عمل آوری کا بھی تیقن دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT