Wednesday , November 22 2017
Home / دنیا / سعودی عرب سے راست اسرائیل کی پرواز سے ٹرمپ نے نئی تاریخ رقم کی

سعودی عرب سے راست اسرائیل کی پرواز سے ٹرمپ نے نئی تاریخ رقم کی

سعودی سے آج تک کوئی طیارہ اسرائیل نہیں پہنچا ، یروشلم میں نتن یاہو اور بیت اللحم میں محمود عباس سے ملاقات
یروشلم ۔ 22 ۔ مئی : ( سیاست ڈاٹ کام) : ڈونالڈ ٹرمپ سعودی عرب کا دورہ مکمل کرلیے ہیں اور اب اسرائیل کے لیے روانہ ہونے سے قبل ہی انہوں نے نئی تاریخ رقم کی ہے یعنی سعودی عرب سے آج تک کوئی طیارہ راست طور پر اسرائیل کے لیے روانہ نہیں ہوا لیکن ٹرمپ آج راست طور پر سعودی عرب سے اسرائیل کے بین گورین انٹرنیشنل ایرپورٹ پہنچے ۔ جہاں وہ دو روزہ توقف کریں گے جس میں فلسطینی سرحدی علاقوں کا دورہ بھی شامل ہے ۔ دریں اثناء اسرائیلی ایرپورٹ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ خود اسے بھی یہ نہیں معلوم تھا کہ آج تک سعودی عرب سے راست طور پر کوئی بھی فلائٹ اسرائیل نہیں پہنچی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے عالمی نقشہ پر وجود میں آنے کے بعد آج تک اس کی مسلمہ حیثیت تسلیم نہیں کی ہے ۔ لازمی بات ہے کہ جب سعودی نے اسرائیل کو تسلیم ہی نہیں کیا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بھی نہیں ہوں گے ۔ دونوں ممالک کے درمیان کوئی راست پروازیں بھی نہیں ہیں اور نہ ہی وہ ایکدوسرے کی فضائی حدود کو استعمال کرتے ہیں لیکن معاملہ یہاں چونکہ امریکی صدر اور ان کے بے شمار اختیارات کا ہے ، لہذا دونوں ممالک ( اسرائیل ۔ سعودی عرب ) اس موقف میں نہیں ہیں کہ ٹرمپ کو یہ ہدایت کرسکیں کہ وہ فلاں فلاں فضائی حدود کے ذریعہ سفر نہ کریں ۔ وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو حالانکہ درپردہ اعتدال پسند مسلم ممالک کے حامی رہے ہیں جن میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک بھی شامل ہیں ۔ جہاں تک اسرائیل سے کسی عرب ملک کو راست فلائٹ کی بات اگر کہی جائے تو یہ صرف مصر اور اردن تک چلائی جاتی ہیں اور ان دونوں ہی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ پر دستخط کیے ہیں ۔ اپنے دورہ کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ علحدہ علحدہ طور پر بنجامن نتن یاہو اور صدر فلسطین محمود عباس سے ملاقات کرتے ہوئے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تعطل کا شکار امن بات چیت کے احیاء کی کوشش کریں گے ۔ بنجامن نتن یاہو سے ٹرمپ کی ملاقات یروشلم میں ہوگی جب کہ محمود عباس سے بیت اللحم میں ۔ ٹرمپ نے سعودی عرب میں زائد از 50 مسلم اکثریتی ممالک کے سربراہان کو خطاب کرتے ہوئے جو بات کہی تھی اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عرصہ دراز سے لیت و لعل میں پڑے ہوئے اسرائیل ۔ فلسطین امن مذاکرات کے احیاء کے خواہاں ہیں ۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسلامی دہشت گردی کا موثر مقابلہ کرنا ضروری ہے اور اس کے لیے تمام مسلم ممالک کو متحد ہوجانا چاہئے ۔ یہی نہیں بلکہ اگر مسلمانوں کے ساتھ ، عیسائی اور یہودی بھی ایک ہوجائیں تو یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ دنیا میں دہشت گردی کا نام و نشان تک باقی نہیں رہے گا ۔ آج دنیا کو امن کی ضرورت ہے ۔ ہر ملک کو اپنی بقاء پیاری ہے جس کے لیے امن کا بول بالا بھی ضروری ہے ۔ اگر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن قائم ہوجائے ، ہند و پاک کے درمیان امن قائم ہوجائے ، شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان امن قائم ہوجائے ، چین اور تبت کے درمیان صلح ہوجائے تو یہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی ۔ ٹرمپ نے یوں بھی سعودی عرب سے راست طور پر ایرفورس ون کے ذریعہ اسرائیل پہنچ کر تاریخ رقم کردی ہے ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا سعودی عرب دورہ یقینی طور پر بہتر نتائج کا حامل ہوگا کیوں کہ ٹرمپ نے انتخابی مہمات کے دوران اپنی شخصیت کے جن پہلوؤں کو آشکار کیا تھا ، صدر بننے کے بعد اس میں کافی تضاد ہے اور اب وہ ایک سنجیدہ ، بردبار اور عوامی قائد بن کر اپنے فرائض انجام دینا چاہتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT