Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / سعودی عرب سے متعلق 9/11 متنازعہ بل کی مخالفت

سعودی عرب سے متعلق 9/11 متنازعہ بل کی مخالفت

FILE - In this April 13, 2016 file photo, President Barack Obama speaksin the East Room of the White House in Washington. President Barack Obama’s decision to send 217 more troops to Iraq and to put military advisers closer to the front lines, fits a pattern of ever-deepening involvement in a war against the Islamic State. (AP Photo/Jacquelyn Martin, File)

دیگر ممالک امریکہ کے خلاف قانونی مواخذہ کرسکتے ہیں ، اوباما کی دلیل
واشنگٹن ۔ /19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ بارک اوباما نے آج کانگریسی قانون سازی بل کی مخالفت کی جس کے نتیجہ میں 9/11 متاثرین سعودی عرب کا قانونی مواخذہ کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے امریکہ کو دیگر ممالک میں اسی طرح کی قانونی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ وائٹ ہاؤز نے اس تجویز کو ویٹو کرنے کا انتباہ دیا ہے ۔ اوباما نے سی بی ایس نیوز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس تجویز کے خلاف ہیں ۔ یہ صرف امریکہ اور سعودی کے مابین باہمی مسئلہ نہیں ہے ۔ اگر ہم اس معاملے میں پیشرفت کریں گے تو دیگر ممالک کے ساتھ بھی یہی صورتحال درپیش ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں کوئی انفرادی شخص دیگر حکومتوں کو قانونی کٹھہرے میں لاکھڑا کرسکتا ہے تو پھر دیگر ممالک میں بھی انفرادی طور پر کوئی شخص امریکہ کے ساتھ ایسا ہی کرسکتا ہے اور اس طرح ایک نئی صورتحال پیدا ہوگی ۔ امریکی سینٹ کے ارکان جان کورنین اور چارلس شیومر نے یہ قانونی بل پیش کیا ہے

جس کے مطابق /11 ستمبر 2001 ء کے متاثرین کو دہشت گردی کی تائید کرنے والے ممالک کے خلاف قانونی کارروائی کا موقع فراہم رہے گا ۔ اوباما نے کہا کہ 9/11 رپورٹ سے متعلق جو 28 صفحات کا اب تک اجراء نہیں ہوا ہے انہیں بہت جلد جاری کردیا جائے گا ۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ عمل آزادانہ رہے گا ۔ انہیں اس رپورٹ میں مواد کا اندازہ ہے لیکن یہ ایسا عمل ہے جو جاری رہنے والا ہے اور اس معاملے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں ہوگی ۔ قبل ازیں وائیٹ ہاؤز پریس سکریٹری جوش ارنیسٹ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ یہ بل جس انداز میں تیار کیا گیا ہے اس پر صدر کے دستخط کی وجہ سے جو صورتحال پیدا ہوگی اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی مخصوص ملک کے ساتھ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے بارے میں تشویش لاحق ہے ۔

TOPPOPULARRECENT