Monday , November 20 2017
Home / دنیا / سعودی عرب سے ٹرمپ کے تجارتی تعلقات کا انکشاف

سعودی عرب سے ٹرمپ کے تجارتی تعلقات کا انکشاف

مہم میں مسلمانوںکے خلاف زہرافشانی، کاروبار کیلئے سمجھوتے، کامیابی کے بعد نیا انداز

واشنگٹن ۔ 22 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ حالیہ انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے اپنے ملک میں داخلے کے حوالے سے تند وتیز بیانات جاری کرتے رہے ہیں۔ اس سے یہ سمجھا گیا تھا کہ شاید وہ مسلمانوں اور سعودی عرب کے سخت خلاف ہیں لیکن عملاً شاید وہ ایسے نہیں ہیں اور اب دھیرے دھیرے ان کی شخصیت اور کاروبار سے متعلق نئے نئے پہلو سامنے آرہے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے سعودی شراکت داروں کے ساتھ تعاون اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے کوشاں رہے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ منافع سمیٹ سکیں۔اخبار میں سوموار 21 نومبر کو شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب کے لیے مہم کے دوران بھی آٹھ کمپنیوں کے ساتھ کاروباری شراکت کے سمجھوتوں پر دستخط کیے تھے۔ان کمپنیوں کا سعودی عرب میں ہوٹل کے ایک مجوزہ منصوبے سے تعلق تھا۔واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ مسٹر ٹرمپ نے اگست 2015ء￿  میں ان کمپنیوں کے ساتھ سمجھوتوں پر دستخط کیے تھے۔اس سے چندے قبل ہی انھوں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا۔ یہ کمپنیاں ٹی ایچ سی جدہ ہوٹل ،ڈی ٹی جدہ ٹیکنیکل سروسز کے نام سے رجسٹر ہیں۔اخبار نے لکھا ہے کہ ان کمپنیوں کے نام بھی بالکل اسی طرح کے تھے جس طرح کے دوسرے غیر ملکی شہروں میں کمپنیوں کے نام تھے اور جن کے ساتھ ڈونالڈ ٹرمپ نے کاروبار کے سلسلے میں سمجھوتوں پر دستخط کیے تھے۔انھوں نے اپنے جو مالیاتی گوشوارے جمع کرائے تھے،ان کے مطابق وہ ان کمپنیوں میں سے چار کے سربراہ اور بعض کے ڈائریکٹر ہیں۔رپورٹ کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ نے 21 اگست 2015ء￿  کو الاباما میں ایک ریلی کے دوران ان چار کمپنیوں کا افتتاح کیا تھا اور یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ ان کے سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات استوار ہیں۔اسی روز انھوں نے مزید کہا کہ ”وہ مجھ سے اپارٹمنٹس اور جائیدادیں خرید کررہے ہیں۔انھوں نے چار سے پانچ کروڑ ڈالرز خرچ کیے ہیں تو کیا میں ان سے نفرت کروں گا؟ میں تو ان سے بہت محبت کرتا ہوں”۔جنوری 2016ء میں وہ امریکی ٹی وی اسٹیشن فاکس نیوز کے ایک پروگرام میں مہمان تھے اور اس میں انھوں نے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ”وہ سعودی عرب کی مدد نہیں کریں گے ،وہ اس ملک کو فوجی امداد یا تحفظ مہیا کرنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کریں گے لیکن وہ اقتصادی سطح پر ان سے فائدہ اٹھائیں گے”۔اس پس منظر کے باوجود ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی ڈیمو کریٹک حریف ہلیری کلنٹن پر انتخابی مہم کے دورام سعودی عرب کے تعلق سے تابڑ توڑ حملے جاری رکھے تھے اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ کلنٹن فاؤنڈیشن نے سعودی عرب کے ساتھ بعض معاملات طے کیے تھے۔

TOPPOPULARRECENT