Thursday , November 23 2017
Home / عرب دنیا / سعودی عرب میں بیروزگار تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ

سعودی عرب میں بیروزگار تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ

سعودی ائزیشن 100% مکمل ، مقامی نوجوانوں کو کم از کم 8,000 ریال تنخواہ کا مطالبہ
جدہ۔ 22 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب میں تارکین وطن کے روزگار اور ملازمتوں کیلئے نئی پالیسیوں نے بیروزگاری میں اضافہ کردیا ہے۔ بیروزگار تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ ماہرین معاشیات نے بتایا کہ سعودیوں میں بیروزگاری 12.8% تک پہونچ گئی ہے۔ محکمہ شہریات نے 2017ء کی دوسری سہ ماہی سے متعلق اعداد و شمار جاری کئے ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہر محکمہ سعودی باشندوں کو ملازمت دینا ہے۔ اس کی وجہ سے تارکین وطن کی ملکیت مارکٹ میں چل رہی ہے۔ سعودیوں کے نام سے غیرملکیوں کے کاروبار کا تناسب بھی بڑھ رہا ہے۔ رکن شوریٰ فہد بن جمعہ نے کہا کہ سعودائزیشن کے فیصلے کے بعد ایسے کسی بھی غیرملکی کو نقل کفالہ کی اجازت نہ دی جائے جس کا معاہدہ ختم کردیا گیا ہے۔ عبداللہ بن محفوظ نے کہا کہ جو سعودائزیشن پر قادر ہے، وہ ہی مارکٹ میں ٹک سکے گا۔ بعض محکموں میں سعودائزیشن کا عمل 100% مکمل ہوگیا ہے اور ماباقی محکموں میں یہ ہدف پورا کرلیا جائے گا۔ ایک اور ماہر معاشیات احسان بو حلیقہ نے کہا کہ بعض پیشے ایسے ہیں جن میں ڈگری ناکافی ہے۔ تجربہ اور لیاقت و قابلیت ضروری ہے۔ سعودی نوجوانوں کو یہ شکایت ہے کہ بعض ممالک کے لوگ انشورنس صرافہ مارکٹ اور کنٹراکٹ کے شعبوں پر قبضہ کئے ہوئے ہیں۔ ایسی صورت میں سعودی نوجوانوں کو کہاں سے تجربہ حاصل ہوگا۔ ملازمت نہیں تو تجربہ کیسے ہوگا۔ ان سعودی نوجوانوں نے مطالبہ کیا کہ بیروزگار غیرملکیوں کو مملکت سے بے دخل کیا جائے اور سعودائزیشن کے ہدف کو یقینی بنانے کیلئے سعودی کی کم از کم تنخواہ ماہانہ 8,000 ریال مقرر کی جائے۔ 24 اکتوبر سے ریاض میں شروع ہونے والی سرمایہ کاری قومی کانفرنس سے توقع کی جارہی ہے کہ مملکت سعودی عرب میں روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت سعودی عرب نے ویژن 2030ء کے ذریعہ معیشت کو مستحکم بنانے کا منصوبہ نایا ہے۔

TOPPOPULARRECENT