Friday , November 24 2017
Home / عرب دنیا / سعودی عرب میں تارکین وطن کیلئے نئی پابندیاں

سعودی عرب میں تارکین وطن کیلئے نئی پابندیاں

اپنے ملک رقومات بھیجنے پر ٹیکس ، شوریٰ کونسل کی مالیاتی کمیٹی نے تجویز منظور کرلی
جدہ۔ 4 جون ۔(سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کی مالیاتی کمیٹی نے تارکینِ وطن کی ترسیلات زر پر مجوزہ ٹیکس کی حمایت کردی ہے۔ اس ٹیکس کی شرح پہلے سال 6 فیصد ہوگی، پھر بتدریج کم ہو کر 2 فیصد ہو جائیگی۔ پانچ سال کے بعد یہی 2 فیصد شرح برقرار رہے گی۔ عرب ٹی وی کے مطابق شوریٰ کونسل کے سابق رکن اور جنرل آڈٹنگ بیورو کے سربراہ حسام العنقری نے اس ٹیکس تجویز کا مسودہ تیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طریقے سے تارکین وطن سعودی مملکت میں رقوم خرچ کرنے یا سرمایہ کاری کرنے کے پابند ہوں گے۔ یہ ٹیکس تارکین وطن کی جانب سے اپنے آبائی ممالک کو منتقل کی جانے والی تمام رقوم پر عائد ہوگا۔ یہ مالیاتی ادارے وصول کریں گے اور اس کی رقم حکومت کے ایک خصوصی بنک کھاتے میں جمع کی جائے گی۔ سعودی عرب کے مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کسی تارک وطن کی جانب سے ایک وقت میں بھیجی جانے والی رقم کی بھی ایک حد مقرر ہوگی۔ اس کے علاوہ تارکین وطن پر سعودی عرب چھوڑنے کی صورت میں یہ بھی پابندی ہوگی کہ وہ کیا کیا بیرون ملک منتقل کر سکتے ہیں۔ مالیاتی کمیٹی کی تجویز میں ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف متعدد اقدامات متعارف کرائے جائیں گے اور جرمانے کی رقم بچائے گئے ٹیکس کی رقم کے برابر ہوگی۔ پھر ہر خلاف ورزی پر رقم دگنا ہوتی چلی جائے گی۔ اپنی تنخواہوں کے جعلی گوشوارے جمع کرانے یا ملازمین کی جانب سے منتقل کی گئی رقوم سے متعلق غلط گوشوارے جمع کرانے والوں کو بھی جرمانے ہوں گے۔ مالیاتی کمیٹی کا کہنا تھاکہ تارکین وطن پر ٹیکس لگانے کا مقصد ملکی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ کمیٹی کی جانب سے یہ تجویز ان رپورٹس کے بعد سامنے آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ تارکین وطن کی جانب سے ترسیلات زر کی مالیت 2014ء میں بڑھ کر 135 ارب سعودی ریال ہوگئی تھی۔ 2005ء میں ترسیلات زر کی مالیت 56 ارب سعودی ریال تھی۔

TOPPOPULARRECENT