سعودی عرب میں طالبات پر اسپورٹس کی پابندی ہٹانے غور

جدہ ۔ 9 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب سرکاری اسکولوں میں طالبات کیلئے اسپورٹس پر عائد اپنے متنازعہ امتناع کو برخاست کرنے پر غور کر رہا ہے۔ شوریٰ کونسل نے امتناع ہٹالینے کی سفارشات پر گرما گرم مباحث کے دوران غور و خوض کیا۔ قدامت پسندوں نے امتناع ہٹانے کی مخالفت کی۔ کل ہوئے گرما گرم مباحث کے باعث شوریٰ کونسل نے طالبات پر ہمیشہ کیلئے پابندی عائد کرنے کی سفارش کی۔ گزشتہ سال مئی میں خانگی اسکولوں میں پہلے ہی طالبات کو اسپورٹس کھیلنے میں نرمی دی گئی تھی۔ نامزد کردہ ادارے جس کے 150 ارکان ہیں ان میں زیادہ تر مرد حضرات بھی شامل ہیں، اپنی سفارشات کو وزارت تعلیم کے پاس روانہ کریں گے جو پابندی عائد کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔

سعودی عرب میں تمام تعلیمی اداروں میں سختی سے صرف زنامہ اور مردانہ زمرے الگ کردیئے گئے ہیں لیکن اسکولوں میں طالبات کیلئے اسپورٹس ہنوز ایک حساس مسئلہ بنا ہوا ہے۔ عصری قدامت پسند مسلم دارالسلطنت میں حجاب پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔ شوریٰ کونسل میں مباحث کے دوران بعض نے یہ حجت کی کہ سرکاری اسکولوں میں طالبات کیلئے اسپورٹس کی سہولتیں نہیں ہے۔ تاہم کونسل نے آخر میں شرعی قانون پر سختی سے عمل کرنے کیلئے زیادہ زور نہ دینے پر اتفاق کیا ۔ کونسل نے سعودی عرب کے مرحوم اعلیٰ مفتی یا مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن باز کے فتویٰ کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ خواتین شرعی قانون کے حدود میں اسپورٹس کھیل سکتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT