سعودی عرب میں قطر کے خفیہ نیٹورک کے گرفتاری کی تردید

اسلامی مملکت کے خلاف سوشل میڈیا پر مخالفتانہ پروپگنڈے کی مذمت

اسلامی مملکت کے خلاف سوشل میڈیا پر مخالفتانہ پروپگنڈے کی مذمت
ریاض ۔ 24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے ملک میں سوشل میڈیا کے ذریعے منافرت پھیلانے اور قطر کے مفادات کے لیے سرگرم خفیہ گروہ کی گرفتاری سے متعلق میڈیا میں آنے والی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی کا کہنا ہے کہ قطر یا کسی دوسرے ملک کے مفاد کے لیے سرگرم کسی بھی شخص یا گروہ کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔خیال رہے کہ لندن سے شائع ہونے والے اخبار”العرب” نے اپنی حالیہ اشاعت میں بتایا ہے کہ حال ہی میں سعودی حکام نے سوشل میڈیا پر قطر کی حمایت

اور سعودی عرب کی مخالفت میں سرگرم کچھ عناصر کو حراست میں لیا ہے۔ پکڑے جانے والوں میں قطر اور سعودی عرب دونوں کے شہری شامل ہیں۔ یہ لوگ سوشل میڈیا پر قطر اور ترکی کے منصوبے اور ہدایات کے مطابق سعودی عرب مخالف مہم چلا رہے تھے۔سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ قطر کے مفادات اور ریاض مخالف سرگرمیوں میں کسی شخص کو حراست میں نہیں لیا گیا۔ اس نوعیت کی تمام خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں اور ان کا مقصد محض افوا سازی اور میڈیا پروپیگنڈہ ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اخبار نے دعویٰ کیا ہے

کہ سعودی عرب میں حراست میں لیے گئے افراد کا تعلق اخوان المسلمون ہے۔ اس کے علاوہ حراست میں لیے جانے والوں میں ترک وزیر اعظم کے مشیر اور کچھ قطری شامل ہیں۔ یہ ایک گروپ کی شکل میں سعودی عرب کے خلاف سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانے میں ملوث پائے گئے تھے۔اخبار لکھتا ہے کہ سعودی عرب نے سنہ 2012ء میں منامہ میں منعقدہ عرب سربراہ کانفرنس میں منظور کردہ اعلامیے کی روشنی میں خلیجی ممالک کے شہریوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اعلامیے میں یہ طے کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردی کی ترویج یا کسی بھی خلیجی ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے افراد کو حراست میں لے کر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، چاہے ان افراد کا تعلق خلیج تعاون کونسل کے کسی رکن ملک ہی سے کیوں نہ ہو۔

TOPPOPULARRECENT