Wednesday , October 24 2018
Home / مضامین / سعودی عرب میں لیبر قوانین پر موثر عمل آوری

سعودی عرب میں لیبر قوانین پر موثر عمل آوری

ایس ایم بلال
مملکت سعودی عرب میں 3 ملین (30 لاکھ) سے زائد ہندوستانی مقیم ہیں جو مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیتے ہیں اور سالانہ 11 ارب ڈالرس کی کثیر رقم اپنے وطن عزیز ہندوستان کو روانہ کرتے ہیں۔ اس طرح وہ نہ صرف ہندوستان کے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ دونوں ملکوں کی ترقی و خوشحالی میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ویسے سعودی عرب میں کئی ایک ملکوں کے تارکین وطن مقیم ہیں لیکن ہندوستانی کمیونٹی بہت کامیاب ہے۔ سعودی عرب میں ہندوستانی کمیونٹی کو ان کی تعلیمی قابلیت و کارناموں، سالمیت اور ڈسپلن کے باعث قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سعودی عرب میں مضبوط لیبر قوانین ہیں جو غیر سعودی ورکروں کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ سعودی حکومت نے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے بڑی جانفشانی سے کام کیا ہے کہ مملکت کے ہندوستانی مہمانوں (ہندوستانی ورکروں) کو ایک ایسے ازالہ شکایت نظام تک رسائی یقینی ہو جو کسی بھی قسم کے استحصال سے ان کا تحفظ کرتا ہو۔ اس مضمون میں سعودی لیبر قوانین کی بعض اہم دفعات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ غیر سعودی ورکروں کو فراہم کئے جانے والے قانونی حقوق اور انھیں درپیش مسائل کے حل سے متعلق بہ آسانی سمجھا جاسکے۔
آجر، ورکرس کی ایک پرمٹ فیس اور رہائش کے اخراجات برداشت کرے گا
تمام ورکرس اپنے آجرین سے معاہدہ کرتے ہیں۔ ان معاہدات میں ان کے نام کے تمام پہلوؤں کی صراحت ہوتی ہے۔ قانون کے مطابق آجرین کو اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ وہ ایک ورکر کے رہائشی اجازت نامہ (ریسیڈنس پرمٹ)، ورک پرمٹ اور آبائی وطن واپسی کے ٹکٹس پر آنے والے مصارف ادا کرے۔
٭ سعودی لیبر قانون مختلف پیشہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو دوسرے کاموں کے لئے ملازم رکھنے سے منع کرتا ہے۔ ایسے طریقہ پر سعودی قانون نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یعنی معاہدہ میں ورکر کا جو پیشہ بتایا گیا ہے اسی کے مطابق ورکر سے کام لیا جائے۔ اس کے علاوہ ورکروں کی ادائیگی بھی نہ روکی جائے۔
٭ سعودی لیبر قوانین کی دفعہ 40 میں کچھ اس طرح صراحت کی گئی کہ ایک آجرکو غیر سعودی ورکر کی بھرتی پر عائد ہونے والی فیس ، ریسیڈنس پرمٹ کی فیس (اقامہ) اور ورک پرمٹ ان کی تجدید اور ان میں تاخیر کے باعث عائد ہونے والے جرمانوں کے علاوہ پیشہ کی تبدیلی ایکزٹ اور ری انٹری ویز کی فیس کے ساتھ ساتھ فریقین کے درمیان طے پائے معاہدے کی تکمیل پر ورکر کو اس کے وطن واپسی کے ٹکٹس پر آنے والے مصارف ادا کرنے کی تاکید کی گئی۔
ورکرس کے وقار کی برقراری
لیبر قانون کی دفعہ 61 کے مطابق آجر اپنے ورکر کا احترام کرے گا اور ایسے کسی بھی اقدام یا لہجہ اختیار کرنے سے گریز کرے گا جن سے ان کے وقار اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے۔
متوفی ورکرس کے حقوق
ورکر کی موت کی صورت میں آجر اپنے ورکر کی نعش اس کے وطن منتقلی کا ذمہ دار ہوگا یعنی میت کی منتقلی پر آنے والے مصارف کی ادائیگی آجر کے ذمہ ہوگی۔ متوفی ہندوستانی تارکین وطن ورکروں کی تدفین کی سہولت سعودی عرب میں بھی موجود ہے۔
٭ دفعہ 40 میں کہا گیا ہے کہ ایک آجر متوفی ورکر کے نعش کی تیاری (غسل وغیرہ) اور اس کی ورکر کے وطن کو منتقلی پر عائد ہونے والے مصارف کی ادائیگی کا ذمہ دار ہوگا۔ ہاں اگر جنرل آرگنائزیشن فار سوشل انشورنس GOSI یہ کام انجام دیتی ہے تو آجر کو راحت ملے گی۔
٭ ہندوستانی متوفی ورکر کی نعش کی تدفین عمل میں لائی جاتی ہے یا پھر متوفی ورکر کے قریبی ارکان خاندان کے مکتوب رضامندی کی بنیاد پر ہندوستان منتقل بھی کی جاتی ہے۔ متوفی ہندوستانی ورکر کے قریبی رشتہ دار یا ارکان خاندان کو مختار نامہ سے متعلق مکتوب رضامندی بھیجنا ہوگا ار یہ مختار نامہ یا مکتوب رضامندی اسٹامپ پیپر پر قابل ترجیح ہوتا ہے۔ جہاں تک ہندوستانی متوفی مسلم ورکروں کی نعشوں کا سوال ہے سعودی عرب کے کسی بھی قبرستان میں ان کی تدفین کی جاسکتی ہے جبکہ ہندوستانی ہندو، عیسائی، سکھ، بدھسٹ، جین اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے متوفیوں کو جدہ، ریاض، دمام، نجران اور جزان (ابو عریش) میں موجود غیر مسلموں کے قبرستانوں میں دفنایا جاسکتا ہے۔
کام کے حالات کا فروغ
سعودی لیبر قانون ورکرس کے لئے کام کے مقررہ اوقات کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ورکروں کو آرام کا وقت دینے سے متعلق دفعات بھی موجود ہیں۔
٭ آرٹیکل 98 کہتا ہے، ایک ورکر حقیقت میں دن میں 48 گھنٹوں سے زائد کام نہیں کرے گا۔ یہ اس لئے کہا گیا کیو نکہ آجرین یومیہ کام کی کسوٹی مقرر کر رکھتے ہیں۔ (سلسلہ جاری ہے)

TOPPOPULARRECENT