Sunday , February 25 2018
Home / Top Stories / سعودی عرب نے اسرائیلی طیارو ں کے لئے اپنے فضائی راستے کھول دئے

سعودی عرب نے اسرائیلی طیارو ں کے لئے اپنے فضائی راستے کھول دئے

قطر کے لئے فضائی اور زمینی حدود بند کرنے والے سعودی عرب کا صیہونی ریاست کے ساتھ رشتوں کو وسعت دینے کے لئے ایک اعلانیہ قدم‘ مملکت کی تاریخ میںیہ پہلی بار ہوگا کہ اسرائیل کے لئے کمرشیل پروزایں سعودی عرب کی فضائی حدود سے جائیں گی
ریاض۔ سعودی عرب نے صیہونی ریاست کے ساتھ اپنے رشتوں کو مزیدوسعت دیتے ہوئے تاریخ میں پہلی بار اسرائیل کے لیے کمرشیل طیاروں کو اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دے دی ہے جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب کے چند ممالک نے قطر کے لیے اپنی فضائی اور زمینی حدود بند رکھی ہیں۔

اسرائیلی روزنامہ ہارٹز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہندوستانی ائیرلائنس ائیر انڈیا نے اس سال جنوری میں صیہونی ریاست کی فضائی کمپنی ای ائی اے ون کے ساتھ نئی دہلی سے براہ راست تل ابیب پروا ز کا معاہدہ کیاتھا اور یہ معاہدہ سعودی عرب کی جانب سے ہندوستان اور اسرائیل کی ائیرلائنس کو اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔

سعودی عرب کی اس اجازت کے بعد ائیرانڈیا مارچ سے اس روٹ پر سفر کرے گی او راس سے تل ابیب تک جانے میں ڈھائی گھنٹہ بچ جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب نے اب تک صیہونی ریاست کے لئے پروازوں کو اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دی تھی ‘ یہاں تک کہ امریکی صدرو کو بھی تل ابیب جانے کے لئے پہلے اردن کی راجدھانی عمان میں رکنا پڑتا تھا۔ لیکن گذشتہ سال ٹرمپ نے سعودی عرب سے براہ راست تل ابیب کا فضائی سفر کیاتھا۔

سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کے لئے طیاروں کو اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دئے جانے سے ریاض او رتل ابیب کے مابین دن بہ دن مضبوط ہوتے رشتوں کاپتہ چلتا ہے۔

حالیہ دنو ں میں سعودی عرب کے اندر سوشیل میڈیا پر بھی صیہونی ریاست کی تعریف کی جارہی ہے جبکہ فلسطین کے مسلمانوں کو احسان فراموش اور مملکت کے ٹکڑوں پر پلنے والے لوگوں جیسے الفاظ سے مخاطب کیا جارہا ہے کیونکہ انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے اسرائیل کے حق میں القدس سے دستبرداری کے فارمولہ کو یکسر مسترد کردیا۔

سعودی عرب کے اندر ایک زمانے میں صیہونی ریاست کا نام پر زبان پر لیاجانا شجر ممنوعہ سمجھا جاتاتھا تاہم مملک کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جبکہ قطر جیسے بردار مملک کے خلاف اشتعال انگیزی سے کام لیاجارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT